”سچا واقعہ کالا دھاگہ جسم پر اس جگہ باندھ لو“

کامیابی کی تعریف کیا ہے؟ ایک مقصد کو حاصل کرلینا۔ ایک کوشش سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا۔ شہرت، دولت یا معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کرلینا۔ یہ چند ایسی تعریفیں ہیں، جنھیںکامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ کچھ زیادہ پانے کی خواہش میں پہلے سے زیادہ محنت اور زیادہ

دیر کام کرنے کا متمنی رہا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لیے زیادہ کامیابی اور زیادہ خوشی حاصل کرسکتا ہے۔ تاہم، علم نفسیات اور سائنسی تحقیق ہمیں اس کے برعکس بتاتی ہے۔ مطالعہ سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صرف پیسہ، طاقت اور شہرت ہی سب کچھ نہیں، جس کے ذریعے انسان اپنی ہر ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ انسان کو ا سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ چاہیے ہوتا ہے۔ یہ بات کسی حد تک دُرست ہے کہ انسان پیسے سے ضرورت کی ہر چیز خرید سکتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ اسے ہر وہ چیز پیسوں سے مل جائے جس سے اسے خوشی محسو س ہوتی ہے۔ نئے دور میں انسانی کامیابی کو اس کی خوشی کے پیمانے میں ناپا جاتا ہے۔ تو آخر خوشی کیا ہے اور آپ میں ایسی کیا خوبیاں ہونی چاہئیں جو آپ کے لیے کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہیں؟ ماہرین کے مطابق، ویسے تو ہر شخص دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، تاہم کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزارنے والے افراد میں مندرجہ ذیل 7خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔کامیاب افراد زندگی میں ایک مقصد لے کر چلتے ہیں۔ وہ اس مقصد کو تلاش اور اسے بیان کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں کہاں جانا چاہتے ہیں (صرف پیشہ ورانہ نہیں زندگی کے ہر شع میں) اور وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے لیے اور ان سے وابستہ ہر شخص کے لیے بہتر ہے۔ ان کی ایک ایسا لگتا ہے کہ ہم یہ طے نہیں کرسکتے کہ پیسہ برا ہے یا اچھا،جب کسی شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کامیاب شخص ہے تو اس سے عمومی یہ ہی مراد ہوتی ہے کہ

وہ دولت مند ہے چناچہ دولت کو لازمی اچھا ہونا چاہیے دولت مند لوگ قابل قدر مقاصد کے لیے ہر سال اربوں روپے خرچ کرتے ہیں چنانچہ دولت اچھی ہے تاہم کیا ہم نے یہ نہیں سنا کہ پیسہ تمام برائیوں کی جڑ ہے ؟ اس تناظر میں پیسہ برا ہے ۔ جو لوگ امیر نہیں ہیں وہ ان لوگوں پر تنقید کرتے ہیں جو امیر ہیں ۔ اسکے ساتھ وہ خود بھی امیر ہو جانا بے حد پسند کرتے ہیں چنانچہ سوال وہی پیسہ اچھا ہے یا برا پیسہ اچھا ہے نہ پورا ہے ہے تاہم کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیسے کو کامیابی کے برابر قرار دیا جاتا ہے ہے ،ضروری ہے کہ اس حوالے سے چند خیالی باتوں کی وضاحت کر دی جائے یہ بھی ضروری ہے کہ اسے تندرست تناظر میں رکھا جائے میں پیسے کے حوالے سے دو نقاط درج کرنا چاہوں گا، پیسہ تمام برائیوں کی جڑ ہے ؟ نہیں میں تو پیسے کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے دونوں بیانات میں واضح فرق ہے پیسے میں کوئی برائی نہیں ہے اس کی خواہش کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے پیسے کا مالک ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے خواہ پیسہ بہت زیادہ مقدار میں ہی کیوں نہ ہو کلیدی بات یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح کماتے ہیں اور اس سے کیا کرتے ہیں ، اگر پیسے کو دیانت داری سے کمایا جائے اور اچھی طرح خرچ کیا جائے تو یہ اچھائی کا سرچشمہ بن جاتا ہے،سوال یہ ہے : کیا پیسہ خوشی خرید سکتا ہے؟جو شخص کہتا ہے کہ پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا، اسکے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہوگا، در حقیقت پیسہ غربت کی نسبت زیادہ خوشی خرید سکتا ہے، ” میں غریب رہا ہوں اور میں امیر بھی رہا ہوں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ امیر ہونا بہتر ہے” شاید پیسہ بیش تر معاملات میں بہتر ہوتا ہے، امیر ہونا نہ تو غیر قانونی ہے اور نا غیر مذہبی۔ تاہم یہ بھی سچ ہے پیسہ سبھی

کچھ نہیں ہے،2: کامیابی کیلئے صرف پیسہ ہی ضروری نہیں ہےہم جس دنیا میں جی رہی ہیں اس میں ہمیشہ سے زیادہ میں لوگ موجود تھے ان امیر لوگوں میں بے شمار لوگ کروڑپتی ہیں اور بہت سے کروڑ پتی لوگ ارب پتی بن رہےمؤرخین نے بیسویں صدی کی نویں دہائی کو ” لالچ کی دہائی” قرار دیا تھا ،اُس دور میں دولت کے ایک پجاری نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ “لالچ اچھا ہے” تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جس شخص نے یہ بیان دیا تھا
چند ماہ بعد وہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا ایسا تب ہوتا ہے جب ہم پیسے کے حوالے سے درست نقطہ نظر کھو بیٹھتے ہیں، اس طرح زندگی مسخ ہوکر رہ جاتی ہے، تاہم صرف وہی لوگ جیل نہیں جاتے جو روپے کی ہوس میں اپنے آپ کو معنی کھو دیتے ہیں میں نے حال ہی میں ایک کتاب پڑھی ہے جس کا موضوع ایسے لوگ ہیں جو بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں ان کے پاس پیسہ ہے جائیداد ہیں طاقت ہے اور سماجی مقام و مرتبہ ہے تاہم وہ لوگ مایوس ہیں سوال یہ ہے کہ اگر وہ کامیاب لوگ ہیں تو مایوس کیوں ہیں وہ خوش کیوں نہیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ خوش ہونا اور کامیاب ہونا دو یکساں باتیں نہیں ہیں یہ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس بظاہر سب کچھ ہوتا ہے لیکن وہ بنیادی اہمیت کی چیزوں کو نظروں سے اوجھل کر چکے ہوتے ہیں ، وہ نشئی بن گئے ہیں وہ پیسا اور اس سے حاصل ہونے والی چیزوں کے غلام بن چکے ہیں اس دوران انھوں نا صرف دوسروں کا نقصان پہنچایا ہے بلکہ اپنی زندگیاں بھی تباہ کرلی ہیں، کامیابی پیسہ کمانے سے کچھ سوا ہے پیسے کی اہمیت پر ضرورت سے زیادہ زور دینا اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے پیسے کے علاؤہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو زندگی کو زیادہ دل چسپ ، زیادہ بامعنی اور زیادہ ثمر آور بنا دیتی ہےیہی خوبی ان کی کامیابیوں کو بامقصد بناتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.