”ایک عظیم گمنام مارخور کی داستان“

ایک عظیم گمنام مارخور کی داستان دوستو کچھ دن پہلے آپ نے سوشل میڈیا پر ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے کیپٹن کی خبر سنی ہوگی آج آپ کو اس ہیرو کے ایسے سچے کارنامے بتاتا ہوں کہ سن کر حیران ہو جائیں یہ انسان نہی فرشتہ تھا وطن کی مٹی کی محبت میں اس فرشتے نے

خود کو مٹی مٹی کر دیا کیپٹن قدیر کا تعلق ایک بہت بڑے زمیندار گھرانے سے تھا خود کیپٹن قدیر 300ایکٹر قابل کاشت آراضی کا زاتی مالک تھا سونا کا چمچمہ منہ میں لیا پیدا ہوا یہ نوجوان جب بڑا ہوا تو وطن عزیز کی حفاظت کیلئے پاک فوج میں بھرتی ہوگیا اس کے رشتے داروں نے اس پر طنز کیا کہ جب روپیہ پیسہ کی گھر میں ریل پیل ہے تو نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے تنخواہ پر نوکر بن رہے ہو یہ سن کر کیپٹن قدیر کا خون جوش مارنے لگا اور چیخ کر کہا فوجی تنخواہ کے لیے بھرتی نہی ہوتا ہے فوجی تو وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر بنتے ہیں اور میں اس ملک پر اپنا تن من دھن سب قربان کر دونگا یہی جذبہ لے کر یہ نوجوان فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ بھرتی ہوتا ہے مقابلہ کا امتحان پاس کرکے اور ترقی کرکے کیپٹن بن جاتا ہے اس کا جذبہ دیکھ کر اسے خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلی جینس میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر مزید اسے بلوچستان خفیہ مشن پر بھیج دیا جاتا ہے اس کے زمہ یہ مشن لگتا ہے کہ بلوچستان میں را کا نیٹ ورک تلاش کرنا ہے اور دہشتگردوں کو ختم کرنا ہے را کے نیٹ ورک کو تلاش کرنے کے لئے مٹی کی محبت میں یہ جنونی انسان جس نے اپنی ساری جوانی نرم گرم بستروں پر گزاری جہاں گھر میں نوکر چاکر کی بھر مار تھی ایک ایک چیز بستر پر نوکر چاکر

آرڈر کرکے لے آتے تھے مگر آفرین آفرین اس شیر دل ہیرو کی اپنے دیس کو دشمنوں سے بچانے کے لئے یہ جنونی کوڑا چننے والا بن جاتا ہے اور پورے تین سال یہ جنونی بلوچستان کے مخلتف شہروں میں فقیر بن کر کوڑا چنتے چنتے گزار دیتا ہے اس کا بستر بھی کوڑا کرکٹ کا ڈھیر وہی اس کا کھانا پینا سخت ترین سردیوں میں یہ جنونی ایک انتہائی بدبودار پھٹے پرانے کمبل میں کھلے آسمان تلے گزارتا ہے صرف دیس کی حفاظت کیلئے آخر اس کی محنت رنگ لاتی ہے اور یہ را کے بہت بڑے نیٹ ورک کلبھوشن تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جی ہاں دوستو کلبھوشن جیسے مشہور ومعروف دہشتگرد کو پکڑنے کے پیچھے اس جنونی مارخور کی تین سال کی محنت ہوتی ہے اور اس ماہ رمضان کے آغاز میں سلمان نامی دہشت گرد جس کو مارتے مارتے ہمارے کرنل سہیل خود شہید ہوگئے تھے اس کی اطلاع دینے والا بھی یہی مار خور تھا آج بلوچستان میں جو امن وامان قائم ہوا ہے تو اس کے پیچھے اس جنونی نوجوان کا بہت بڑا کردار ہے کیپٹن قدیر کے اتنے بڑے بڑے کارنامے ہیں کہ لکھنے کے لئے کتابیں کم پڑ جائیں میں سوچ رہا ہوں دوستو یہ کیسا انسان تھا 300 ایکڑ اراضی کا مالک شخص کس طرح تین سال کوڑا چننے والا فقیر بنا رہا کس طرح بدبودار کمبل میں اس نے تین سال گزار دیے ایسے لوگ انسان ہرگز نہی ہوسکتے یہ فرشتہ تھا ہم جیسے نام نہاد حب الوطنی کے دعویدار ایک رات بھی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر نہی گزار سکتے مگر اس شخص نے ہم پاکستانیوں کو سکھ امن دینے کی خاطر اپنے گھر کے نرم گرم بستروں کو لات مار دی اور کچھ نام نہاد فیس بُکی

دانشور سارا دن ان فوجیوں کو تنخواہ دار چوکیدار ہونے کے طعنے دیتے ہیں میری فوج کو طعنے دینے والو یہ ایک امیر کبیر شخص تھا دولت اس کے گھر کی لونڈی تھی مگر یہ پاکستان کی خاطر فوجی بنا اور فوجی تنخواہ کے لئے نہی بنتے فوجی تو مجاہد ہوتے ہیں جو وطن عزیز کی خاطر بنتے ہیں شہید کیپٹن قدیر میرے ہیرو میرے پاس تیری تعریف کے لئے الفاظ نہی ہیں تو عظیم ہے ھاں اتنا کہتا ہوں شہید کیپٹن قدیر جیسے مجاہدوں کے مٹی سے اٹے بوٹ چومنا آنکھوں سے لگانا میرے لیے بہت بڑی سعادت کا درجہ رکھتا ہے میرے پیر ومرشد میری فوج ہے میرے شہید ہیں کیپٹن قدیر شہید آپ کے کارنامے تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھے جائیں گے خاص طور پر کلبوھشن کو پکڑنے کے لئے جس طرح تو نے تین سال کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر گزار دیے اے پاک فوج کے شہیدو ہم پاکستانی تمہارے احسان مند ہیں ہم یاد رکھیں گے مت سمجھو ہم نے بھلا دیا شہید تم سے یہ کہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا یہ تحریر لکھتے ہوئے میں نے گھنٹوں لگا دیئے اور بےشمار بار بلک بلک کر روتا رہا بار بار میرے سامنے کیپٹن قدیر کی کوڑا کرکٹ والی تصویر گھومتی رہی مٹی سے اٹے پاؤں میلے کچیلے پھٹے کپڑوں میں بھی اس کی آنکھوں میں ایک چمک ہے چیتے جیسی چمک شہزادہ لگ رہا ہے وطن کی مٹی گواہ رہنا وطن عزیز کی خاطر ہم نے کیسے کیسے خوبصورت شہزادے قربان کیے پاکستانیوں قدر کرو اپنے شہیدوں کی اپنی فوج کو عزت دو اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاؤ اگر فوج کے شانہ بشانہ کھڑے نہ ہوئے تو یاد رکھنا داستان تک نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں پاک فوج زندہ باد پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.