ایک معنی خیز اور سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) موٹروے پر جس طرح ایک خاتون کو بے عزت کیا گیا اُس پر سب سے پہلے میں اپنے مرد ہونے پر جتنی لعنت بھیجوں کم ہے، ایک خاتون ایک عالم دین کے پاس گئی، اُن سے کہنے لگی میرا خاوند ”نامرد“ ہے، میں اُس سے طلاق لے سکتی ہوں؟ نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک

کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔، عالم دین نے خاتون سے پوچھا ” کیا اُس میں سے تمہاری کوئی اولاد نہیں؟ خاتون بولی ”اُس میں سے میرے چاربچے ہیں“،عالم دین نے فرمایا ” پھرتم کیسے کہہ سکتی ہو وہ نامرد ہے؟، وہ بولی ”وہ مجھے گالی دیتا ہے“ …. اُس نے بالکل ٹھیک کہا تھا، عورت پرتشدد کرنے والے، عورت کو گالی دینے والے، عورت کو بے عزت کرنے والے اور بہت کچھ ہوسکتے ہیں، مرد نہیں ہوسکتے، یہ سانحہ کسی مہذب معاشرے میں ہوا ہوتا وہ معاشرہ شرم سے ڈوب کر مرگیا ہوتا، جاپان میں کوئی شخص چھوٹے سے چھوٹا جرم کرنے سے پہلے حتیٰ کہ چھوٹی سے چھوٹی غلطی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے، دانستہ یا غیر دانستہ طورپر کوئی جرم اُس سے سرزد ہوجائے قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی وہ موت کو سینے سے لگا لیتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے اب سوسائٹی کو منہ دکھانے کے وہ قابل نہیں رہا، ایک ہم ہیں اپنے جرائم پر فخرکرتے ہیں، اور دوسروں کو اِس پر مجبور کرتے ہیں،…. سی سی پی او لاہور نے جو ”بکواسیات“ خاتون کی بے عزتی پر کیں وہ اُتنی ہی قابل مذمت ہیں جتنی قابل مذمت خاتون کی ”بے عزتی“ ہے، میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ”بولنے کی حدہوتی ہے بکنے کی کوئی حد نہیں ہوتی“۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو اپنی زبان پر کوئی کنٹرول نہیں، جس طرح کمزور مثانے کا کوئی شخص اپنا پیشاب نہیں روک سکتا، اُسی طرح منہ کی بواسیر میں مبتلا شخص کے جو منہ میں آئے بک دیتا ہے،

کہ پتہ نہیں بعد میں یہ منہ میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ عہدے کا لحاظ بھی اِس شخص کو نہیں ہے ، یقین کریں ایک تعلق کے لحاظ میں، میں اُن کے لیے مہذب الفاظ استعمال کرنے کی ہرممکن کوشش کررہا ہوں، پھر میں سوچتا ہوں جس طرح ہرکسی کے لیے وہ غیر مہذب زبان استعمال کرتے ہیں پتہ نہیں ہماری مہذب زبان اُن کی سمجھ میں آئے گی بھی یانہیں؟ ، اکثر یوں محسوس ہوتا ہے وہ اپنے حواس میں نہیں ہوتے، کتنا بہتر ہوتا اُن سے بالکل مختلف شخصیت کے حامل پولیس افسر انعام غنی کو جب آئی جی لگایا جارہا تھا وہ ارباب اختیار سے گزارش کرتے ”پہلے سی سی پی او لاہور کے تبادلے کی صورت میں آئی جی کے عہدے کی گریس واپس کی جائے، اُس کے بعد مجھے آئی جی لگایا جائے“۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا، ایسا ہو بھی نہیں سکتا، ہمارے افسران کی اکثریت صرف ذاتی مفادات پر ہی مکمل ایمان رکھتی ہے، اداروں کی تباہی کی کوئی اہمیت اُن کے نزدیک نہیں ہوتی، ….خاتون کے ساتھ موٹروے پر ظلم ہوئی۔سازشی آئی جی موٹروے ڈاکٹر بلکہ ”مریض حکیم امام“ بھی اُس کے اُتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے سی سی پی او لاہور ہیں، ایک افسر اپنی پوسٹنگ بچانے کے چکروں میں ہے دوسرا مزید اچھی پوسٹنگ لینے کے چکروں میں ہے، ”مریض حکیم امام “ کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے وہ اپنے دفتر میں بیٹھنے کے بجائے سارا دن اُن کے دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں جو اُنہیں مزید اچھی پوسٹنگ دے سکتے ہیں،

شکر ہے اُن کے سیکرٹری داخلہ بننے کی کوشش میں نے اُن کی پوری جدوجہد کے باوجود ناکام بنادی، ورنہ ملک کا امن وامان آج بحریہ ٹاﺅن میں رکھے کسی ڈسٹ بن میں پڑا ہوتا، اب ہروقت آئی جی پنجاب بننے کے خواب وہ دیکھتے رہتے ہیں، یہ خواب دیکھنے کے لیے اُن کا سوئے ہونا لازمی نہیں، ممکن ہے جس وقت وحشی موٹروے پر ایک عورت کے ساتھ غلط کاری کررہے تھے عین اُسی وقت آئی جی موٹروے اچھی پوسٹنگ لینے کے لیے کسی کے در پر اپنا موبائل فون آف کرکے بیٹھے ہوں، …. سنا ہے سی سی پی او لاہور کوجب یہ پتہ چلا ڈاکٹر شعیب دستگیر کے ساتھ جنگ میں اُن کی ”عارضی فتح“ ہورہی ہے اُنہوں نے کلیم امام کو آئی جی پنجاب بنوانے کی فوری طورپر اُتنی ہی کوشش کی جتنی کوشش اپنے سی سی پی او لاہور بننے کے لیے کی، کلیم امام آئی جی بن جاتے سی سی پی او لاہور کے ساتھ اُن کی ”خوب گزرتی جو مل بیٹھتے دیوانے دو“۔ اس کلیے کی بنیاد پر کہ جو کچھ آتا ہے آنے دو…. ہرشخص میں خوبیاں خامیاں ہوتی ہیں، پر بڑا ہی بدقسمت ہوتا ہے وہ شخص جس کے بارے میں کوئی ایک باکردار شخص کلمہ¿ خیر کہنے والا نہ ہو۔ ماضی کا مجھے کچھ اندازہ نہیں، حالت سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی اب یہ ہے کوئی ایک مہذب شخص اُن کے لیے کلمہ خیر نہیں کہہ رہا، ایک دو لوگوں نے کہا بھی اپنے کہے پر اب اتنے وہ شرمندہ ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.