یہ سیڑھی کے ذریعے اندر جاتے ہیں اور بالٹی سے کھانا نکالتے ہیں ۔۔ جانیے دنیا خواجہ غریب نواز کے مزار پر بننے والی سب سے بڑی دیگ کے بارے میں دلچسپ معلومات

دنیا میں ایسے کئی حیرت انگیز واقعات رونما ہوتے ہیں جو کہ سچ میں انسان پہلی بار دیکھتا ہے، اگرچہ یہ چیزیں ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہوتے ہیں مگر جب یہ چیزیں بڑے پیمانے پر ہوں تو انسان کو کافی حیرت ہوتی ہے۔ Hamariweb.com لایا ہے آج ایسی ہی خبر، جس میں آپ کو ایک ایسی دیگ کے بارے

میں بتائیں گے جس میں اترنے کے لیے سیڑھی کی مدد درکار ہوتی ہے۔ بھارت میں خواجہ غریب نواز کے مزار پر روزانہ ایک ایسی دیگ تیار کی جاتی ہے جس میں متعدد افراد کے لنگر کا انتظام کیا جاتا ہے۔ 4800 کلو کی اس دیگ میں لنگر کے کھانے کو تیار کیا جاتا ہے۔ اس دیگ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دیگ آج سے ساڑھے چار سو سال پہلے بادشاہ اکبر نے اجمیر شریف میں دی گئی تھی، اس وقت سے لے کر آج تک اس دیگ میں ہر روز متعدد افراد کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں موجود دیگ اتنی بڑی ہے کہ اس میں اترنے کے لیے بھی سیڑھی کی مدد درکار ہوتی ہے۔ سب سے پہلے دیگ میں زائرین چندہ ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ چاول اور دیگر چیزیں بھی ڈالتے ہیں۔ پھر اس دیگ میں انتظامیہ کا ایک رکن بزریعہ سیڑھی اندر

اترتا ہے اور وہاں موجود پیسوں اور چاول کو الگ کر لیتا ہے۔ اس دیگ میں آنے والے زائرین اپنی خوشی سے چاول، دال یا پیسے دیتے ہیں۔ پیسے اور چاول نکالنے کے بعد دیگ کو صاف کیا جاتا ہے اور پائپ کی مدد سے پانی ڈالا جاتا ہے، اور پھر زعفرانی چاول اس میں ڈالے جاتے ہیں۔ اس دیگ کے لیے چولہہ بھی کوئی عام چولہہ نہیں ہے، بلکہ ایک کمرے جتنی جگہ موجود ہے جس میں لکڑیاں رکھی گئی ہیں۔ ایک رکن جا کر ان لکڑیاں کو جلاتا ہے۔ اس دیگ میں ہلدی، میدہ ڈالا جاتا ہے۔ اس دیگ میں موجود کھانے کو پکانے کے لیے بھی ایک بڑا چمچہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جو کہ 20 سے 25 فٹ کا ہوتا ہے۔ اس دیگ میں چاول ڈرائی فروٹس بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ بوریوں کی بوریاں لائی جاتی ہیں۔ اس دیگ میں چینی کی تین سے

چار بڑی بڑی بوریاں انڈیلی گئیں۔ اس دیگ کے چمچے کو بھی ایک طرف سے رسیوں سے باندھا گیا ہے تاکہ ڈنڈے کی طرف سے دو آدمی ہلا سکیں اور دوسری طرف سے بھی دو آدمی دیگ میں موجود کھانے کو پکا سکیں۔ مکھن کا کنستر اس دیگ میں ڈالا جاتا ہے جو کہ کافی بڑا ہوتا ہے لیکن اس دیگ میں وہ بہت چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ چاولوں کی کئی بوریوں کو ڈالا گیا لیکن معلوم ہی نہیں ہوا کہ چاول ڈال دیے گئے ہیں۔ جب دیگ تیار ہو جاتی ہے، تو ایک کارکن دیگ کے اندر سیڑھی کے ذریعے اترتا ہے، ہو سکتا ہے ہمارے ہاں تو چمچہ یا بڑے چمچے کے ذریعے کھانا نکالا جاتا ہو۔ لیکن اس دیگ سے لنگر کا کھانا نکالنے کے لیے بالٹی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دیگ سے ساڑھے چار فٹ کے 5 سے زائد ڈرم مکمل طور پر بھر جاتے ہیں جبکہ دیگ کو خالی کرنے میں بھی 10 سے 20 منٹ لگ جاتے ہیں۔ یہ میٹھا لنگر اجمیر شریف میں زائرین کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے لگایا جا رہا ہے، اس روایت کو آج تک قائم کیا ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.