اسلام کو سمجھ کر مجھے وہ سکون ملا جو ۔۔ جانیے وہ مشہور اداکار کون ہیں؟ جو اب زندگی میں سکون محسوس کر رہے ہیں

پاکستانی ستاروں کو کیمرے کے سامنے اداکاری کرتے ہی دیکھا گیا ہے، بہت کم لوگ ہیں جو ان کہ نجی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں۔ پاکستان میں سیلیبریٹیز کو ایک منفی طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے کئی اداکار ایسے بھی ہیں جو کہ مذہبی لگاؤ رکھتے ہیں۔ Hamariweb.com ایک ایسی

ہی خبر لے کر آئی ہے جس میں آپ کو بتائیں گے کہ اداکاروں کو اسلام کی کون سی اچھی بات اثر انداز ہوئی اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد کی۔ یشمٰی گل: مشہور پاکستانی ٹی وی اداکارہ یشمٰی گل اپنی اداکاری کی وجہ سے ناظرین کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ یشمٰی گل مشہور پاکستانی ڈرامہ الف میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں۔ یشمٰی گل کہتی ہیں کہ جب آپ کا ایمان کمزور ہو تو آپ کی عقل پر ویسے ہی پردہ پڑ جاتا ہے۔ یشمٰی گل نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ جب وہ سائکالوجی کی پڑھائی کے لیے آسٹریلیا میں تھیں، تب ان کی ملاقات پشاور کی ایک طالبہ وردہ سے ہوئی جوبعد میں ان کی دوست بنی۔ یشمٰی بتاتی ہیں کہ وردہ ایک باحجاب لڑکی ہے جبکہ میں اس وقت کچھ اس قسم کے نظریات رکھتی تھی جس میں اسلام کی اکثر باتوں پر سوالات کرتی۔ جبکہ وردہ کو دیکھ کر مجھے گمان ہوا کہ ہماری تو کبھی نہیں بنے گی۔ لیکنن وردہ اس حد تک اچھی اور ملنسار تھی، کہ اس نے میری حالت کو سمجھ کر مجھے مشورے دینے شروع کیے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وردہ ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی لڑکی

ہے۔ وردہ نے میری حالت کو سمجھتے ہوئے مجھے رمضان کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا مشہورہ دیا۔ میں نے رمضان کے سارے روزے رکھے، نمازیں بھی پڑھیں حتٰی کہ باقی لوگوں کو بھی نماز کے لیے اٹھاتی اور روزے رکھنے کے لیے کہتی۔ میں اپنے پوری کوشش کر رہی تھی۔ جب رمضان کا مہینہ پورا ہو گیا، تو میں اپنی دوست کے پاس گئی اور بتایا لو میں نے روزے بھی رکھ لیے اور نماز بھی پڑھ لی۔ یشمٰی ہر آیت کو سمجھ سمجھ کر اسے پڑھ رہی تھیں، جو آیت انہیں یاد نہیں رہتی تھی، وہ اس آیت کو لکھ کر جائے نماز پر رکھ دیتی تھیں اور پھر نماز پڑھتی تھیں۔ یشمٰی کہتی ہیں کہ دو تین دن ہی گزرے تھے کہ مجھے نماز کے وقت احساس ہوتا تھا کہ میں کچھ بھول رہی ہوں کچھ ایسی چیز جو بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اسی طرح جب میں اپنے رب کے قریب ہوئی تو میرے مسائل بھی حل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ مجھے نوکری مل گئی تھی، میرے گھر والوں کے ساتھ کچھ مسائل تھے وہ حل ہو گئے۔ اور میری ذہنی حالت اس وقت کافی تنگ، وہ بھی ٹھیک ہو گئی تھی۔ یشمٰی کہتی ہیں کہ جو سکون میں دوستوں اور ہر

جگہ ڈھونڈتی تھی وہ مجھے نماز میں مل رہا تھا۔ زینب جمیل: زینب جمیل بھی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ زینب اداکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی تھیں، مگر انہوں نے ماڈلنگ اور اداکاری کو خیر باد کہہ کر روحانی سکون کے لیے جستجو حاصل کرنے کی کوشش میں لگ گئیں۔ زینب نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اپنی روحانی استقامت کے لیے پُر عزم رہیں۔ یہ ایک آسان سفر نہیں ہے۔ شیطان آپ کو آپ کے راستے سے ہٹانے کے لیے ہر موقع تلاش کرتا ہے۔ اگر آپ اپنے راستے پر ڈٹے نہیں رہیں گے تو گر جائیں گے۔ اور پھر آپ ان لوگوں کی طرح باتیں کرنے لگیں گے جنہیں اپنے بنانے والے کی پرواہ نہیں ہوتی ہے، خیال رکھیں۔ زینب کے اس پوسٹ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ عشق حقیقی کی طرف متوجہ ہو گئی ہیں۔ زاہد احمد: پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک مشہور نام، زاہد احمد بھی کچھ ایسی صورتحال سے دوچار تھے، جس نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا کہ میرے پاس دنیا کا سب سکون ہے پھر میں بدنصیب کس طرح۔ زاہد احمد کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے ایک بہترین مقام پر پہنچایا ہے، بیوی بھی بہت اچھی دی اور دو پیارے پیارے بچے بھی عطا کیے ہیں۔ مجھے اس بات کا احساسہوا کہ کبھی اللہ سب کچھ دے گا کر آزماتا اور کبھی سب کچھ لے کر آزماتا ہے۔ زاہد کہتے ہیں کہ اللہ نے ہر چیز عطا کی ہے اور ہر چیز کا سوال ہونا ہے۔ صرف نماز صدقے کا سوال نہیں ہوگا، ہر ایک چیز کا سوال آپ سے ہوگا۔ زاہد کہتے ہیں کہ ہماری آزمائش اس لیے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ ہمیں لوگ سنتے ہیں۔ زاہد احمد اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے کئی دینی موضوعات پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ سنجنا گلرانی: بھارتی اداکارہ سنجنا گلرانی کو کئی فلموں میں سائڈ رول کے طور پر دیکھا گیا تھا، اداکارہ سجنا گلرانی کا اصل نام ارچنا منوہر گلرانی تھا۔ جبکہ سابقہ اداکارہ نے اسلام کا بغور مطالعہ لیا اور مشاہدہ کیا۔ وہ کئی سالوں سے اسلام کے بارے میں منفی باتیں سنتی آ رہی تھیں، اسی منفی پراپیگنڈے سے انہیں اسلام کو جاننے کا تجسس پیدا ہوا۔ سابقہ اداکارہ اسلام کے اصولوں اور تعلیمات سے اس حد تک متاثر ہوئیں کہ اسلام قبول کر لیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.