اس کی ماں اسے چھوڑ گئی تھی، تب سے میں نے اسے مامتا کا پیار دیا ہے ۔۔ جانیے اس خواجہ سرا کی کہانی، جو آپ کو بھی رلا دے گئی

اکثر جب کبھی سگنل پر کھڑے خواجہ سرا پر ہماری نظر پڑتی ہے، تو ہم میں سے اکثر لوگ انہیں دیکھ کر منہ بنا لیتے ہیں یا عجیب قسم کے تاثرات دیتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ خواجہ سراؤں کے احساسات کو نہیں سمجھ پاتے۔ Hamariweb.com ایک ایسی خبر لائی ہے جس میں ایک ایسے خواجہ سرا کے

بارے میں بتائیں گے کہ وہ کس طرح ایک ننھی سی بچی کی ماں بنی اور اسے ماں ہی کی طرح پال رہی ہیں۔ گوری ساونت بھارت کی ایک ایسی خواجہ سرا ہیں جن کی زندگی ایک موڑ پر آ کر مکمل تبدیل ہو کر رہ گئی۔ انہوں نے ایک بچی گائتری جو گود لے کر اس کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ گوری ساونت چھوٹی تھی تب سے ان میں ایک ایسا احساس تھا جو کہ انہیں باقی انسانوں میں مختلف بناتا تھا۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے انکل سے کہا کہ مجھے بھی ماں بننا ہے۔ جس پر انکل نے کہا کہ لڑکے کبھی بھی ماں نہیں بن سکتے ہیں۔ گوری کی نظر ایک

مکان پر پڑی جہاں طوائفیں موجود ہوتی تھیں، انہی میں سے ایک طوائف اپنی نومولود بچی کو لے کر وہاں موجود تھی۔ وہی وہ لمحہ تھا جب گوری نے اس بچی کو گود لینے کا فیصلہ کیا اور اس بچی کو ہر قسم کی برائی سے دور رکھ کر ایک روشن اور محفوظ مستقبل دینے کا اعادہ کیا تھا۔ گوری کہتی ہیں کہ ہر خواجہ سرا اپنے گھر سے بھاگے ہوئے ہوتے ہیں، انہیں کوئی قبول نہیں کرتا ہے۔ گوری نے اب ایک ارادہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسا گھر تعمیر کریں گی جہاں یتیم بچوں کی تربیت کی جائے گی۔ ایک بچی کا مستقبل سنورنے سے مجھے ہی فائدہ ہوگا، ہم سوسائٹی کے لیے اپنا فرض پورا کر رہے ہیں اور اسی طرح ہمیں سماج ایک بہتر شہری کے طور پر عزت دے رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.