اسلام میں مچھلی کو ذب ح کرنا کیوں منع ہے مچھلی کو ذب ح نہ کرنے کے وہ فوائد جسے جان کر

چودہ سو سال پہلے دین اسلام کی شکل میں جو رہنمائی ملی ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے اگر دین اسلام ہمارا مقدر نہ ہوتا تو آج ہم ایسے خطرناک معاشرتی اخلاقی طبی امراض میں مبتلا ہوتے جن کے بارے میں آج تک ہم نے سنا ہی نہیں۔ اسلام کی تعلیمات کی بدولت ناصرف ہمارا معاشرہ

بہترین معاشرہ بنا ۔ بلکہ ہماری بنیادی ضروریات جیسے کھانا وغیرہ میں بھی ہم نے پاکیزگی اور شائستگی اختیار کی ۔ آج شاید ہی ایسا شخص ہو جو کہ مچھلی کے فوائد سے ناواقف ہو ۔ مچھلی کا گوشت اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جو ہر بیماری میں مبتلا انسان کھا سکتا ہے ۔ مچھلی کا گوشت ہمارے دماغ اور آنکھ کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے ۔ دل کے امراض کو کم کرتا ہے اور ہارٹ اٹیک ہونے کی شرح کو بھی کم کرتاہے ۔ مچھلی کا گوشت کھانے سے ہمارا امیون سسٹم بہتر ہوتا ہے اس کیوجہ سے ہم مستقبل میں آنیوالی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری ہمارے جسم کو مضبوط اور چست بناتا ہے ۔ اسلام اگر چودہ سو سال پہلے مچھلی کو ذ ب ح نہ کرنے کے حوالے

سے ہدایات نہ فرماتا تو شاید آج ہم ان تمام فواد سے محروم ہوتے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مچھلی کو ذ ب ح نہیں کیا جاتا ۔ اسے پانی سے باہر نکال کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ جب مچھلی تڑپنا بند کردیتی ہے تو پیٹ کو کاٹ کر غیر ضروری اجزاء کو باہر نکال دیا جاتا ہے ۔ باقی مچھلی حسب ضرورت پکا کر کھائی جاتی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام نے باقی حلال جانوروں کو ذ ب ح کرنے کا حکم دیا ہے تو مچھلی کو ذ ب ح کرنے سے کیوں منع فرمایا ۔ جب سائنس دانوں نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ۔ تو اس حکم کے پیچھے پوشیدہ حکمت کو جان کر اللہ اکبر کہہ اٹھے اور اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے جہاں خ و ن انسانی جسم کا انتہائی اہم جزو ہے وہیں اہم جزو جراثیم اور

بیکٹریا کے افزائش کا بھی ٹھکانہ ہے ۔ بہت سے جان لیوہ جراثیم بھی ہمارے خ و ن میں پرورش پاتے ہیں اور جسم کو نقصا ن پہنچاتے ہیں۔ یہ جراثیم اس وقت اور بھی زیادہ طاقتور ہوجاتے ہیں ۔ جب یہ ایک مردہ انسان کے خ و ن میں ہوں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ جب مچھلی کو پانی سے باہر نکال کر خشک جگہ پر رکھا جاتا ہے اس کا خ و ن اسکے جسم سے نکل کر اس کے ایپی گلوٹز میں جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ جب تک اس کے خ و ن کا ایک ایک قطرہ ایپی گلوٹز میں منتقل نہ ہوجائے تو مچھلی نہیں مرتی ۔ مچھلی کے مرنے سے پہلے اسکا پورا جسم خ و ن سے خالی ہوجاتا ہے ۔ لہذا مچھلی کو ذ ب ح کرکے اس کا خ و ن باہر نکالنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی ۔سائنس دانوں نے اس حقیقت کو آج جانا لیکن خالق حقیقی نے ہمیں اپنے پیارے محبوبﷺ کے ذریعے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.