”حضور اکر م ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا۔۔۔۔؟؟؟“

اللہ کے نبی کے دور میں ایک عورت تھی خولہ بنت ثعلبہ ۔ ان کے شو ہر نے ان کو طلاق دے دی اور طلاق تھی بھی زمانہ جاہلیت کی ان کے شوہر نے ان سے کہاتوں میرے لیے میری ماں کی طرح ہے اور اس پر جو طلاق پڑتی تھی وہ ایسی طلاق پڑتی تھی کہ کسی بھی صورت رجو ع ممکن نہیں ہوتا تھا ۔

جب ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تو وہ پریشان ہو کر اللہ کے نبی کے پاس حاضرہوئی۔ اللہ کے نبی اپنے گھر پر تھے اور حضرت عائشہ آپ ﷺ کو کنگھی فرما رہی تھیں۔ انہوں نے آکر کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے خاوند اوس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور کہہ دیا ہے تو میرے لیے میری ماں کی طرح ہے اللہ کے رسول ﷺ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اب تو ا س کے لیے حرام ہوگئی ہے۔ تو وہ کہنے لگی کہ یارسول اللہ ﷺ آپ نظر ثانی کریں وہ میر ے بچوں کا باپ ہے۔ میں کس کے سہارے جیو۔ اور میرے بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ بچوں کو کہاں سے پالوں۔ تو اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے پھر کہا: خولہ کا م ختم ہوچکا ہے اب تو ا س کے لیے حرام ہوچکی ہے ۔ اس نے پھر کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نظر ثانی فرمائیں ۔ میرے بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ میر ے ماں باپ مرچکے ہیں۔ میں اور میرے بچے کس کے سہارے جیے گیں۔ جب خولہ نے تیسری مرتبہ فریاد کی تو اللہ کے نبی اکرم ﷺ چپ کرکے بیٹھ گئے۔ اب مانتی ہے نہیں۔ جب اس نے دیکھا کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ نہیں سن رہے ۔ اس نے کہا اچھا آپ

نہیں سنتے تو میں آپ کے رب کو سناتی ہوں۔ اور خولہ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہااے میرے رب! میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میں اپنے پاس رکھو۔ تو روٹی کہاں سے کھلاؤ۔ اور اگر اپنے شوہر کے پاس رکھو تو ا نکی تربیت کون کرے گا؟ تربیت تو ماں ہی کرتی ہے۔ اے میرے رب! تواپنے نبی کی زبان پر میرے حق میں فیصلہ اتار دے۔ یہ نہیں کہاکہ جو تیرے ہاں ہے وہ فیصلہ اتار، بلکہ اللہ کو پابند کیا کہ یاللہ فیصلہ میرے حق میں آنا چاہیے ۔ میرے خلاف نہیں آنا چاہیے ۔ ابھی اس کے ہاتھ نیچے آئے تھے کہ اللہ کے نبی پر وحی طاری ہوئی تو وہ اور بھی رونے لگ گئی ۔ کہ پتا نہیں فیصلہ میرے حق میں ہے یا نہیں ۔ جب وحی ختم ہوئی تو آ پ نے آنکھیں کھولیں اور مسکر ا پڑے اور کہا خولہ مبارک ہو اللہ نے تیر ے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ اور اللہ نے اسے حدیث کا حصہ نہیں بنایا ۔ بلکہ قرآن کا حصہ بنایا تاکہ قیامت تک ہر لڑکی پڑھے اور دیکھے کہ اللہ سے تعلق رکھنے والی عورت کےلیے یوں اللہ فیصلے اتارتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے قانون بھی بد ل دیتا ہے پارہ نمبر اٹھائیس، سورہ المجاہدہ “قدسمع اللہ قول التی

تجادلک فی زوجھا وتشتگی الی اللہ ” ۔ بے شک اللہ نے عورت کی بات سنی جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے پربحث کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔ اللہ نے خولہ کو بڑی عزت دی۔ قرآن میں اور صرف ایک آیت نہیں بلکہ پورے دو رکوع اتارے ۔ اوراللہ نے کہا ، ہاں ہاں میرے محبوب جب آپ اور خولہ آپس میں تکر ار کررہے تھے آپ انکار کررہے تھے وہ ہاں کروا رہی تھی ۔ میں خود تم دونوں کی عدالت میں موجود تھا ۔ پھر آپ نے سنی نہ پھر اس نے مجھے اپنا دکھ سنایامیں تم دونوں کے دلائل سن رہا تھا آپ انکار پر تھے ۔ وہ اقرار پر تھی میں تم دونوں کی عدالت میں موجود تھا۔ اور میں نے خولہ کے حق میں فیصلہ دے دیا اور اس طلاق کو باطل قراردے دیا۔ اوراس کا جرمانہ رکھ دیا غلام آزاد کرویا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو تو بیوی حلال ہوگی۔ آج جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہماری سنتا نہیں ہے ان کو پہلے خود کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کا اللہ کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ کیونکہ جن کا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط ہوتاہے تو پھران کے لیے اللہ ایسے قرآن اتارتا ہے ۔ اورایسے اپنے قانون توڑتا ہے اورایسے مدد کرتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.