سا نپ اور مور کو جنت سے کیوں نکا لا؟ یہ وجہ جا ننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے!

کہتے ہیں کہ جب اللہ نے حضر ت آدم اور اما حوا ؑ کو جنت میں رہنے کا حکم سنا یا اور ابلیس کو جنت سے بے دخل کر دیا تو اس کو بڑی تکلیف ہو ئی ۔ اور وہ اپنی اس د ش م ن ی کی آ گ میں جلنے لگا اور ہر وقت اس طاق میں رہنے لگا کہ کیسے ان کو جنت سے نکلوائے اب یہ مقصد پورا
کرنے

کے لیے اس کو کسی کی مدد کی ضرورت تھی تا کہ وہ جنت میں حضرت آدم اور اما حوا تک پہنچ سکے ابلیس کی مدد کس نے کی اور اما حوا ؑ تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوا وہ بد قسمت جانور کون کون سے تھے اور ان کی مدد کی وجہ سے کیسے وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے یہ سب ہم آج آپ کو بتائیں گے۔ اس بارے میں مکمل تفصیل جاننے کے لیے آپ سے التماس ہے کہ ہمارے ساتھ ر ئیے گا تا کہ ان معلو مات سے آپ کو آگاہی حاصل ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا فر ما یا ہے اور حضرت آدم ؑ کو خود اپنے ہاتھوں سے پیدا فر ما یااور حضرت آدم ؑ کے بعد اما حوا ؑ کو پیدا فر ما یا اور اس کے بعد ان کو فر ما یا کہ تم جنت میں رہو جیسا کہ قرآنِ پاک میں سورۃ بقرۃ میں اور سورۃ طحہٰ میں اللہ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اللہ نے آدم ؑ سے فر ما یا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ اس جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو خوب کھاؤ پیو لیکن اس درخت کے قریب

بالکل بھی نہ جا نا ورنہ تم نقصان اُٹھا ؤ گے۔ اور یہ ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا د ش م ن ہے اس سے ہو شیار رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے الغرض یہاں تم عیش و آرام سے رہو گے ۔ اس درخت کے حوالے سے بہت ہی بحث موجود ہے لیکن اللہ پاک نے اس درخت کا نام تعین نہیں فر ما یا لہذا اسم رائے سے اجتناب بہتر ہے ابلیس حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے کی پاداش میں فرشتوں سے نکالا گیا اسی لیے وہ ہر وقت حسد کی آ گ میں جلتا تھا اور تدبیر کر تا تھا کہ کسی طرح حضرت آدم ؑ کو جنت سے نکالا جا ئے اس نے سب سے پہلے مور سے دوستی کی یعنی مور سے دوستی کی اور اس کو پھر اپنی دوستی کا واسطہ دے کر بولا مجھے اپنے بازوؤں پر بٹھا کر بہشت میں پہنچا دو۔ تا کہ میں اپنے د ش م ن وں سے بدلہ لے سکوں لیکن مور نے اس بات سے انکار کر دیا لیکن ابلیس س ا ن پ کے پاس گیا اور اس کو اپنے فریب میں پھنسا لیا س ا ن پ اس کو منہ میں لے کر بہشت میں داخل ہوا۔ اور حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے پاس گیا اور رونا شروع کر دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.