”اگر یہ تین علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو سمجھ جائیں کہ اللہ کریم آپ سے بہت سخت ناراض ہے۔“

جمادی الثانی کا مبارک مہینہ جاری ہے اور چندہی دنوں میں رجب کا برکتوں والا مہینہ شروع ہونے والا ہے یہ مہینے ایسی برکتوں والے مہینے ہیں جن کے بیش بہا فضائل ہیں اور ان مہینے میں اللہ کی رحمتیں بارش کی طرح برستیں ہیں۔ ہرمسلمان کو چاہئے کہ ان مہینوں میں اللہ کی طرف خاص رجوع کرے

زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں وقت گزارے اور ایسے ہر کام سے اجتناب کرے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہو ۔اس تحریر میں ہم آپ کو ایسے کاموں کے بارے میں بتارہے ہیں جو کہ اللہ کی نارضگی کا سبب بنتے ہیں ان کاموں سے نہ صرف جمادی لثانی کے مہینے میں اجتناب کرنا چاہئے۔
بلکہ رجب المرجب میں تو خاص طور پر ان کاموں سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے یہ کام کون سے ہیں ؟عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے مہاجروں کی جماعت پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہوگئے تو ان کی سزا ضرور ملے گی اور میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ وہ بری چیزیں تم تک پہنچیں جب بھی کسی قوم میں بے حیائی بدکاری وغیرہ اعلانیہ ہونے لگتی ہیںتو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے لوگوں میں بھی نہیں ہوتی جب وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ان کو

قحط سالی روزگار کی تنگی بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سے سزادی جاتی ہے جب وہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمانوں کی بارش روک لی جاتی ہے۔اگرجانور نہ ہو تو انہیں کبھی بارش نہ ملے جب وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں سے دشمن مسلط کردیئے جاتے ہیں وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے جب بھی ان کے امام سردار اور لیڈر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ ان میں آپس کی لڑائی کرا دیتا ہے ۔اگر ہم اس حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو کوئی ایسا گناہ نہیں ہےجس میں موجودہ زمانے کے لو گ گھرے ہوئے نہ ہوں اسی لئے ہمیں چاہئے کہ اللہ سے معافی مانگیں اور ان برائیوں سے توبہ کریں جمادی الثانی کا مبارک مہینہ جاری ہے اور آگے رجب المرجب آئے والا ہے اسی لئے اس ماہ میں ہم ان کاموں سے توبہ کریں جو ہمارے

بس میں ہے اگر دیکھاجائے تو تین کام تو ان میں سے ایسے ہیں جو کہ ہمارے اپنے بس میں ہیں۔ وہ یہ کہ ہم وعدہ خلافی نہ کریں عہد نہ توڑیں اپنے مالوں کی زکوۃ پابندی سے نکالیں اور ناپ تول میں کمی سے اپنے آپ کو بچائیں اگر ہم عہد توڑنے کی باتیں کریں تو آج کے دور میں کتنے ہی جھوٹےوعدے کئے جاتے ہیں جھوٹی قسمیں کھائی جاتی ہیں حالانکہ ہمارے آقاﷺ نے اس کی سخت وعید فرمائی ہے اور خود آپﷺ کا عہد کے حوالے سے جو عالم تھا وہ اس حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن ابی حمسہ کا قصہ عجیب ہے فرماتے ہیں نزول وحی اور اعلان نبوت سے پہلے میں نے حضورﷺ سے خریدو فروخت کا ایک معاملہ کیا کچھ رقم میں نے اداکردی کچھ باقی رہ گئی میں نے وعدہ کیا کہ میں ابھی ابھی آکر رقم بھی ادا کردوں گا اتفاق سے تین دن تک مجھے اپنا وعدہ یا دنہیں آیا تیسرے دن جب میں اس جگہ پہنچا جہاں میں نے آنے کا وعدہ کیاتھا تو حضورﷺ کو اسی جگہ منتظر پایا مگر اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ میری اس وعدہ خلافی سے حضورﷺ کے ماتھے پر ایک ذرہ بل نہیں آیا بس صرف اتنا ہی فرمایا تم کہاں تھے میں اس مقام پر تین دن سے تمہارا انتظارکررہا ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.