انسانوں پر اللہ تعالیٰ کا حقیقی حق لوگوں اللہ تعالیٰ سے شرم وحیاء کیا کرو

رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے شرم وحیاء کریں جیسا اس سے حیاء کرنے کا حق ہے ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ﷺ ہم اللہ سے شرم وحیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا حیاء کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو۔اللہ سے شرم وحیاء کرنے کا یہ حق ہے کہ

تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی اللہ کی نافرمانی سے حفاظت کرو اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو او رموت اور ہڈیوں کے گل سڑجانے کو یاد کیا کرو اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب وزینت کو ترک کردے ۔ پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے ویسا حیاء کیا جیسا کہ اسے حیاء کرنے کا حق ہے(جامع ترمذہ 2458راوی سیدنا عبداللہ بن مسعود)۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں رسول خداﷺ ہمارے گھر تشریف لائے میں اور فاطمہ ؓ اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے میں دال مسور صاف کررہا تھا تو رسول خداﷺ نے فرمایا ابو الحسن ؓ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ فرمائیں آپﷺ نے فرمایا میری بات غور سے سنو میں حکم خدا کے علاوہ کچھ نہیں کہتا ہوں آپﷺ نے

فرمایا جو مرد اپنی بیوی کے گھریلو کاموں میں مدد کرتا ہے تو اللہ اُس مرد کے جسم کے ہر بال کے بدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب دیتا ہے کہ جس میں دن کے روزے اور رات کی نماز میں مشغول ہو ۔ (حوالہ:بحارالانوار)۔ ایک مرتبہ آپﷺ سفر میں ایک جگہ سوئے ہوئے تھے کہ ایک درخت آپﷺ پر سایہ کرنے کیلئے پاس آگیا اور رسول اللہﷺ پر سایہ کرکے واپس چلا گیا جب رسول اللہﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپﷺ کے سامنے سارا واقعہ بیان بیان کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس درخت نے اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگی تھی کہ مجھے آکر سلام کرے تو اس کو اجازت دے دی ۔(مشکوٰۃ:5922)۔ حضوراکرمﷺ سے پوچھا گیا کہ نجات کا ذریعہ کیا ہے فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو تمہارا گھر تم کو سمائے رکھے یعنی بلا ضرورت گھر سے نہ نکلو اور اپنی غلطی پر رویا کرو۔(مشکوۃ شریف)۔رسول اللہﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں بنائی کہ جس کی دوا نازل نہ کی ہو سوائے ایک بیماری کے وہ بڑھاپا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *