نبی کریم ؐ نے فرما یا ! آپ خوش قسمت ہیں یا بد قسمت

حضوراکرمﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسا انسان جس کی زند گی میں بد قسمتی کا راج ہو یا جس انسان کی زندگی میں بدقسمتی عیاں ہو اس شخص کی نشانیاں بتائی ہیں ۔ اگر اس انسان میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں تو وہ بدقسمت ہے۔ اگر وہ ان پر قابو پالے تو خوش قسمت کو پا سکتا ہے۔ بد قسمت انسان کی سب

سے پہلی نشانی ہے کہ اس کا کسی بھی معاملے پر یا کسی چیز پر سخت دل ہوجانا یعنی اس کی زبان سے رونا نکلے ہی نہ۔ تو ایسے شخص کو بد قسمت کہتے ہیں۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ آپ ﷺ کے بہت ہی پیارے صحابہ تھے ۔ آپ رضی اللہ آپؐ کی خدمت حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپ رضی اللہ کے چہر ے پر دو سیا ہ نشان پڑے ہوئے تھے۔ تو یہ نشان کیوں تھے کیونکہ آپ رضی اللہ جو اللہ کی خشیت ہےجو خشیت الہیٰ ہے اس میں اتنا روتے تھے کہ آپ کی آنکھوں کے گرد وہ نشان رو رو کر بنے ہوئے تھے۔ تو جو شخص روتا نہیں ہے ۔ خشیت الہیٰ میں روتا نہیں ہے۔ یااپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگتا ۔ اس پر روتا نہیں ہے تو وہ شخص بد قسمت ہے۔ رونا انسان کے باطن کو صاف کرتا ہے۔ فرمایا گیا کہ اگر خدا کے خوف سے تمہاری آنکھ سے مکھی کے سر کے برابر جتنا آنسوکا قطرہ بھی نکل آیا تو سمجھو کہ تمہاری بخشش ہوگئی ۔ اپنے دل کو سخت نہ ہونے دیں۔ آپ نہ کسی

کے بارے میں غلط سوچے نہ ہی برا سنیں ۔ لہٰذا اپنے دل کو سخت ہونے سے بچائیں۔ اس کےبعد دوسری نشانی یہ ہے کہ جو امیدیں جوڑ کے بیٹھ جاتا ہے اور حال کا کوئی کام نہیں کرتا۔ مثلاً آپ سوچیں کہ میں نیک کام کر لو، صدقہ کرلو، زکوٰۃ اداکرلویاکچھ بھی ایسا کرلو جس سے مجھے فائدہ ہوجائے۔ تووہ آج نہیں کرتا اور سو چتا کر تا ہے کسی اور دن کر لیتا ہوں ۔تو اس کا مطلب یہ ہےکہ آپ بدقسمت لوگ ہیں۔ آپ نے جو سوچا ہے اس کو فوری ادا کریں۔ اب آپکو کامیاب لوگوں کی نشانیاں بتاتے ہیں جن کو کامیابی ملتی ہے۔ کسی بھی کمپنی کی کامیابی اس کے اراکین پر ہوتی ہے۔ جہاں یہ لوگ اپنے ساتھیوں کی خوشیوں کے لیے ایثار کرنے کےلیے تیار ہوں۔ یہ لوگ ایک دوسرے کی مد د کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کردار کو جانتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی پر ناخوش ہونے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ خوش قسمت لوگ وہی ہوتے ہیں جو دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کوشش میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اپنی صلاحیتوں کا بھرپور طریقوں سے

استعمال نہیں کر پاتے۔ ایک مقولہ ہےکہ مرد کی شکل کو نہیں دیکھا جاتا کام کو دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد کامیاب لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دوسروں کا احساس کر تے ہیں۔ اسلام دوسروں کا احساس کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہی کامیاب لوگوں کی نشانی ہوتی ہے۔ جو خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں وہ ہمیشہ خود کو ثابت کرنے کی کو شش نہیں کرتے۔ وہ نہ کسی برائی بیان کرتے ہیں اور خود کو کمتر سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے مقصد کو پانے کی کو شش کرتے ہیں۔ ایپل کمپنی کے مالک سٹیوجوبس خود کو آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے کہ یہ تمہاری زندگی کا آخری دن ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے انہوں نے اپنی ترجیحات طے کیں۔ان ترجیحات کی وجہ سے خود کو کامیاب کر پائے۔ اس کے بعد کامیاب بندے کی نشانی ہے صرف اور صرف کام ۔ لہٰذا وہ لوگ کامیاب ہونے کےلیے عقل کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ زیادہ محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ پیسہ،انعام تب میسر ہوتے ہیں جب آپ ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ لیکن کچھ لوگ اپنی خامیوں کو چھپاکر آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تو اس دور کے اندر اپنی انا کو ختم کرنا اور اپنے آپ کو دکھانایعنی اپنا اصل چہرہ دکھانا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *