”سود خور مرنے کے بعد عبرت کا نشان بن گیا، دفنانے کے ایک دن بعد ہی میت قبر سے باہر نکل آئی،ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا“

پشاور(ویب ڈیسک) سود کے کاروبار سے وابستہ وفات پانے والے شخص کی نعش کو قبر نے بھی قبول نہیں کیا اور گزشتہ روز سپرد خاک کئے جانے والے شخص کی نعش ایک دن بعد دوبارہ قبر سے باہر آ گئی جس پر قبرستان کے ارد گرد کے رہائش پذیر شہریوں اور قبر کندوں نے انہیں دوبارہ سپرد خاک

کیا۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بھی سود کے کار وبار سے وابستہ افراد کے خلاف کاروائی کی ہدایات کی جا چکی ہے تاہم یہ کاروائی صرف کاغذی حد تک محدود ہیں صوابی میں گزشتہ روز سود خوروں سے تنگ آکر ایک شخص نے خود کشی کی تھی اندرون شہر واقعہ قبرستان میں گزشتہ روز سود کے کاروبار کرنے والے شخص کو سپرد خاک کردیا گیا تھا اس کی تدفین کے ایک ہی دن بعد اس کی نعش دوبارہ قبر کے اوپر پڑی تھی مقامی شہریوں کے مطابق مذکورہ شخص سود کا کاروبار کرتا تھا جس پر دوبارہ انہیں سپرد خاک کر دیا گیا اور ان کے لواحقین کو بھی آگاہ کردیا گیا دو سال قبل صوبائی دارلحکومت پشاور کے کینٹ کے ایریا میں سود خوروں سے تنگ آکر باپ بیٹے اور بیوی نے خود کشی کی تھی سود خور کی نعش ایک دن بعد قبر سے باہر آنے پر مقامی شہریوں میں شدید خوف وہراس پھیلا سود کی تعریف۔سود کو عربی زبان میں ” ربا”کہتے ہیں ،جس کے لغوی معنی زیادہ

ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا ”۔ مثلاً کسی کو سال یا چھ ماہ کے لیے 100 روپئے قرض دئے ، تو اس سے یہ شرط کرلی کہ وہ 100 روپے کے 120 روپے لے گا ، مہلت کے عوض یہ جو 20روپے زیادہ لیے گئے ہیں ، یہ سود ہےسود کی حرمت۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :”اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو سود لوگوں کے پاس باقی رہ گیا ہے ایمان والے ہو تو اسے چھوڑ دو ، تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسولۖ کی طرف سے جنگ کے لیے خبر دار ہوجاوے ( البقرہ :275)۔ نیز فرمان باری ہے : ” اے ایمان والو ! کئی گنا بڑھا کر سود نہ کھاو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاو ، اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو

تاکہ تم پر رحم کیا جائے”۔ ( آل عمران :(132ـ131)حجة الوداع کے موقع پر، جس میں تقریباً سارے صحابہ کرام عرب کے چپے چپے سے اُمنڈ آئے تھے ، اس میں بھی خصوصیت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارتی اور مہاجنی ہر طرح کے سود کی حرمت کا اعلان فرمایا :”سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاوں تلے روند دی گئی اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا۔ اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارا سود ختم ہے ”۔( بخاری )سیدنا جابر کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے ، اور اسے کھلانے والے ، اور اس (دستاویز)کے لکھنے والے ،اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور پھر فرمایا کہ یہ تمام کے تمام گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔”( مسلم ١٥٩٨)سیدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” جس گاوں میں زنا اور سود رواج پاگیا ، تو وہاں کے باشندوں نے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کرلیا۔ ( صحیح ،المستدرک للحاکم) سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : ”محق” ( گھٹانا ) یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سود خور بندے کا نہ حج قبول کرتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *