اپنی نمائش کرنے والی عورت بھی کسی بھکاری سے کم نہیں کیونکہ ؟؟

جب عورت نے مرد سے محبت کا معیار صرف دولت رکھ لیا تب سے مرد نے دل کے اوپر جیب سجالی اور دل ڈھانپ لیا۔ اورجب مرد نے محبت کا معیار صرف ظاہر ی حسن سمجھا تو عورتوں نے بھی دوپٹہ اتار دیا اور کاسمیٹکس اوڑھ لی یوں دونوں پر یکٹیکل ہوگئے ۔ اور سب ہنسی خوشی بر باد ہونے لگے۔

انسان مٹی کو وہ لٹو ہے جوگھوم پھر کر واپس بنانے والے کے ہاتھوں میں آجاتا ہے۔ ہماری نیت کی پیمائش اس وقت ہوتی ہے۔ جب ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کریں جو ہمیں کچھ نہیں دے سکتا۔ ہم اتنا زور اپنےآپ کو درست کرنے میں نہیں لگاتے جتنا زور دوسروں کو اپنے سے زیادہ غلط ثابت کرنے میں لگاتے ہیں۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو زمین پر مشہور ہیں اور آسمان پر گمنام ۔ کتنے ایسے بھی ہیں۔ جو آسمان پر مشہور ہیں اور زمین پر گمنام عزت تقویٰ سے ہے ۔ طاقت سے نہیں۔ زندگی کی سب سے بڑی ہار کسی کی آنکھوں میں آنسو آپ کی وجہ سے اور زندگی کی سب سے بڑی جیت کسی کی آنکھوں میں آپ کےلیے آنسو ہونا ہے۔ جب تم اللہ کےکسی بندے کی مدد کرو تو اس کے اچھا یا برا ہونے کو مت سوچو اللہ بھی تمہاری مدد کرتا

ہی ہے۔ تمہارے اچھے یا برے کردار کو سامنے رکھے بغیر۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوا ل کیا گیا اگر کسی شخص کی قیمت طے کرنا چاہیں تو اس کا معیار کیا ہوسکتا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مختصر جواب احساس ذمہ داری ۔ جس شخص میں جتنا احساس ذمہ داری ہوگی وہ اتنا ہی قیمتی ہوگا۔ جب تک تیرا غرور اور غ صہ باقی ہے۔ اپنے آپ کو نیک لوگوں میں شمار مت کر۔ کا ش کہ لو گ سمجھ سکیں۔ کہ رشتے بنانا اصل بات نہیں بلکہ اصل بات ان رشتوں کو نبھانا ہوتاہے۔ وقت سب کو ملتاہے زندگی بدلنے کےلیے لیکن زندگی دوبارہ نہیں ملتی وقت بدلنے کےلیے۔ حکمت ایک ایسا درخت ہے۔ جو دل میں اگتا ہے۔ دماغ میں پلتا ہے۔ اور زبان پر پھل دیتا ہے۔ عاجزی یہ ہے کہ انسان دوسروں کے اندر ایک برائی دیکھے تو اسے اپنی

دس یاد آجائیں ۔ جب کسی ضرورت مند کی آواز تم تک پہنچے تو اللہ کا شکر اداکرو کہ اس نے اپنے بندے کی مدد کےلیے تمہیں وسیلہ بنایا۔ چیزوں کی قیمت ملنے سے پہلے ہوتی ہے۔ اور انسانوں کی قیمت کھونے کےبعد۔ کسی کو چاہو تو اس انداز میں چاہو کہ وہ تمہیں ملے یا نہ ملے مگر اسے جب بھی محبت ملے تو اسے تم یا د آجاؤ۔ ہم لوگ بھی عجیب ہیں ۔ ثواب کی خاطر مرے ہوئے انسان کو گندھا ضرور دیتےہیں۔ مگر زندہ انسان کا سہارابننے سے کتراتے ہیں۔ کسی بھی شخص سے ناراضگی کا لمحہ اتنا طویل نہ کرو کہ وہ تمہارے بغیر ہی جینا سیکھ لے۔ رزق کے پیچھے اپنی عزت کا سودا مت کرو۔ کیونکہ نصیب کا رزق انسان کو ایسے تلاش کرتا ہے۔ جیسے مرنےوالے کو م وت۔ زندگی نے ایک بات تو سکھا دی کہ ہم کسی کے لیے ہمیشہ خاص نہیں رہ سکتے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *