محرم میں رات سونے سے پہلے پانچ مرتبہ آیت الکرسی پڑھنے کی طاقت

آپ کو آیت الکرسی کی فضیلت کے بارے میں بتائیں گے ۔ یہ بھی بتائیں گے کہ اگر رات سونے سے پہلے پانچ بار آیت الکرسی پڑھنے کامعمول بنا لیا جائے تو اس سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوگا جو شخص ہر فرض نماز کے بعد ایک بار آیت الکرسی ہمیشہ پڑھتار ہا تو اس کے متعلق حضو راکرمﷺ نے کیا

ارشاد فرمایا ہے ۔ یہ سب کچھ آپ کو بتائیں گے۔ایک شخص نے نبی پاک ﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ مجھے ایسی چیز بتائیں مجھے اس سے نفع ہو۔ تو آ پ ﷺ نے فرمایا: آیت الکرسی پڑھا کرو۔ نگہبانی کرے گا۔ میرا پروردگار تیری اور تیری اولاد کی۔ اور نگاہ رکھے گا تیرے گھر پر یہاں تک کہ تیرے ہمسائے اور تیرے گھر پر اللہ کی حفاظت ہوگی ۔ جو شخص ہرفرض نماز کے بعد ایک مرتبہ آیت الکری سی ہمیشہ پڑھتا رہا توحضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت اس پر واجب کردی گئی ہے۔ جنت اور اس کے درمیان سوائے م و ت کے اورکوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ ایک شخص نے نبی پاک ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں خیرو برکت نہیں ہے۔تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ تم آیت الکرسی کیوں نہیں پڑھتے ۔ آیت الکرسی کے بارے میں اور کئی احاد یث مبارکہ ہیں جو ظاہر ہوتا ہے اس میں بہت سے برکات شامل ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقے فطر کی نگرانی پر مجھے مقرر فرمایا تھا۔ ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھ بھر کر غلہ لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میں تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلوں گا۔ اس نے کہا میں ایک محتاج ہوں میرے اوپر میرے اہل وعیال کا بوجھ ہے اور میں سخت ضرورت مند ہوں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا جب صبح ہوئی تو نبی کریمﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمہارے قیدی نے کل رات کیا کیا؟اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس واقعے کی خبر دے دی تھی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس نے اپنی شدید ضرورت اور اہل وعیال کے بوجھ کی شکایت کی اس لیے مجھے اس پر رحم آیااور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: خبردار رہنا اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے وہ دوبارہ آئے گا۔ مجھے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ دوبارہ آئے گا۔ چنانچہ میں اس کی تاک میں لگا رہا وہ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلہ بھرنا شروع کردیا۔ میں نے اسے پکڑ کر کہا کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺ کےپاس ضرور لے جاؤں گا ا س نےکہاکہ مجھے چھوڑ دو، میں ضرورت مند ہوں میرے اوپر بال بچوں کا بوجھ ہے اب آئندہ میں نہیں آؤں گا مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمہارے قیدی کا کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس نے اپنی شدید ضرورت اور اہل و عیال کے بوجھ کی شکایت کی، اس لیے مجھے اس پر رحم آگیااور میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاا: ہوشیا ر رہنا اس نے جھوٹ

بولا ہے ۔وہ پھر آئے گا چنانچہ میں پھر اس کی تاک میں رہا وہ آیا اور وہ دونوں ہاتھو ں سے غلہ بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ کر کہا کہ میں تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کےپاس لے جاؤں گا۔ یہ تیسرا اورآخری موقع ہے تو نے کہا تھا ۔ آئندہ نہیں آؤں گا مگر تو پھر آگیا۔ اس نے کہا مجھے چھوڑدو میں تمہیں ایسے کلمات سکھاؤں گا کہ اللہ پاک ان کی وجہ سے تمہیں نفع پہنچائیں گے۔ میں نے کہا وہ کلمات کیا ہے اس نے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو آیت الکرسی پڑھ لیاکرو۔ تمہارے لیے اللہ پا ک کی طر ف سے ایک حفاظت کرنے والا مقرر رہے گا اور صبح تک کوئی شیط ان تمہارے قریب نہیں آئے گا تو میں نے اس کوچھوڑ دیا۔ صبح کو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے قیدی کا کیا ہوا میں نے عرض کیا: اس نے کہا تھا کہ وہ مجھے چند ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اللہ پا ک مجھے نفع پہنچائے گے۔تو میں نے اس مرتبہ بھی اسے چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کلمات کیا تھے ؟ میں نے کہا کہ وہ یہ کہہ گیا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو۔ تمہارے لیے اللہ پاک کی طرف سے ایک حفاظت کرنے والا مقرر رہے گا اورصبح تک کوئی شی طان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ رکرام رضی اللہ عنہم خیر کے کاموں پر بہت زیادہ حریص تھے ( اس لیے آخری مرتبہ خیر کی بات سن کر اسے چھوڑ دیا ) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا غو ر سے سنو اگرچہ وہ جھوٹا ہے لیکن تم سے سچ بول گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تم جانتے ہو کہ تم تین راتوں سے کس سے باتیں کررہے تھے ؟ میں نے کہا نہیں ! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شیط ان تھا (جو اس طرح مکر وفریب سے صدقات کے مال میں کمی کرنے آیا تھا)۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جاتی ہے اس گھر سے شیطان بھا گ جاتاہے۔ اور تین دن تک اس کا گھر میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ اور چالیس دن تک اس پر سحر کا اثر نہیں ہوسکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *