بازار میں بہت گہما گہمی تھی مرد عورتیں سبھی کچھ آوارہ مرد عورتوں کے جسم کا ایکسرے کررہے تھے

آپ کہہ سکتے ہیں کہ شاپنگ کرنے میں ہمیشہ سے ہی سستی اور کاہلی کا شکار رہا ہوں میرے لئے شوپنگ امی جی یا بڑے بھائی خرم ہی کرتے ہیں اکثر آج محلے میں رہنے والا ایک بچپن کا دوست ملا اور کہنے لگا جہانگیر بھائی کچھ کپڑے لینے ہیں آپ ساتھ چلئے گا پہلے تو میں نے منع مجھے بازاروں

میں بلاوجہ جانا ویسے ہی پسند نہیں پر پھر یاد آیا امی نے کب سے چپل خریدنے کا کہا ہوا تھا تو سوچا چلو ا چھا ہے سنگ مل گیا میں نے اسے وہیں کھڑا رہنے کا کہا اور گھر جاکر پیسے لئے اور پھر ہم دونوں بازار کی طرف چل پڑے ۔ ہمارا محلہ کراچی کا ایک دیہات ہی لگتا ہے مجھے یہاں نہ تو آس پاس کوئی خاص آبادی ہے اور نہ ہی کوئی بازار وغیرہ خیر بازار پہنچ کر پہلے جناب کیلئے پینٹ شرٹ خریدنے لگے بہت بڑا مال تھا یہ اور عجیب وغریب دکانیں اتنی بڑی دکان تھی کہ تمام مرد وزن یہیں امڈ آئے تھے یا ہر دکان پر ایسا ہی رش تھا لہذا میں تھوڑا پرے ہوکر کھڑا ہوگیا اور مختلف چیزوں کو دیکھنے لگا کہ اسی اثناء میرے کانوں سے کچھ ایسے جملے ٹکرائے جنہوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا بھائی پچھلی بار بھی آپ نے جو برقع دیا تھا اسکی فٹنگ بہت خراب تھی اور پھر آلٹر کرنے سے برقعے میں وہ بات نہیں رہتی ہیں یہ کیا برقے کی بھی فٹنگ ہوتی ہے میں یہ سوچتے ہوئے اس بہن اور دکاندار کی طرف متوجہ ہوگیا جہاں وہ بہن جی کہ رہیں تھیں کہ کس طرح بازوں کے ساتھ چپکا ہوا فل باڈی فٹنگ قسم کا

چاہیے پہلے تو میں نے سوچا شاید میں نے کچھ غلط سنا ہوگا پر پھر جب اس بھائی نے سیاہ لبادے ان کے سامنے رکھنے شروع کئے تو میری یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی کچھ دیر تو تماشہ دیکھتا رہا پر پھر اپنی فطرت سے مجبور ہوکر ان بہن جی سے مخاطب ہوہی گیا۔بہن بات سنیں گی آپ ذرا جی بولیں بہن آپ برامت ماننا پر جس طرح کا آپ برقع لے رہی ہیں اس سے تو آپکا یہی لباس بہتر ہے جو آپ نے ابھی زیب تن کیا ہوا ہے بھائی آپ کو کوئی تکلیف ہے کیا جائیں اپنا کام کریں بہن تکلیف ہے تو کہا نہ اسکی وجہ سے برقعے کی اہمیت ہی کھوتی جارہی ہے اور آج کل لوگ عام لباس والوں کو کم اور برقعے والیوں کو زیادہ گھورتے ہیں برقعے کا مطلب اپنے جسم کی حفاظت کرنا ہوتا ہے تاکہ کسی کو کچھ شہ نہ ملے لباس ہمیشہ ڈھیلا ڈھالا ہی پہننا چاہیے عورت کو آپ بہن ہوا س لئے بہن سمجھ کر سمجھایا مولوی صاحب آج کل یہی فیشن چل رہا ہے پتا نہیں آپ کونسی دنیا میں رہتے ہو جاؤ اپنا کام کرو اب اسی دوران خدائی رضاکار قسم کے لوگ جو مارکیٹوں میں لڑکیوں کا آنکھوں سے ایکسرا کرنے بیٹھے ہوتے ہیں جمع ہونے لگ گئے اور

مجھے گھورنے لگے گویا ہیر و بننے کی کوشش کرنے لگے میں نے جب نظریں دوڑائیں تو اپنا دوست کہیں نظر نہیں آیا سو میں سمجھ گیا میرا مخلص دوست کہیں آگے پیچھے ہوگیا ہے خیران بہن جی سے کہا اللہ آپ کو سمجھ دے اور ایسے فیشن سے اچھا ہے برقعے کو آگ ہی لگا دی جائے کم سے کم اسلامی شعائر کا مذاق تو نہ اڑے یہ کہتا ہوا میں وہاں سے باہر نکل آیا پیچھے سے ان بہن جی نے بھی کچھ کہا اور وہاں کھڑے ہوئے رضاکاروں نے بھی جمے کسے پر خیر ان چیزوں کی عادت ہے سو ڈھیٹ بناباہر نکل آیا تو دیکھا دوست گنے کا جوس پی رہا ہے اور مجھے دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا اوے کہاں چلا گیا تھا تو بھائی آپ نے پنگے لینا شروع کردیئے تھے فالتو میں مجھے بھی پٹواتے واہ میرا مخلص تجھ پر صدقے واری چل آ اب واپس چلتے ہیں میرا موڈ نہیں ہورہا کچھ لینے کا واپسی گھر آیا اور سوچنے لگا کہ پردہ کرنے کا تو ہم کہتے ہیں پر کیا کبھی ماؤں بہنوں کو بتایا کہ برقع کرنا ہی پردہ نہیں ہوتا مطلب پردے کا مقصد ہی نہیں بتایا صرف برقع کرلینے سے سب ٹھیک نہیں ہوجاتا آپ کی نیت بھی ہونی چاہیے چلیں میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں پردہ کسے کہتے ہیں تم نے کہا کہ یہ ڈیڑھ گز کا کپڑے کا ٹکڑا حجاب ہے اچھا یہ بتاؤ تم کیک بہت اچھا بناتی ہو کبھی

اسے بیک کرکے کھلا چھوڑ کہ دیکھنا کہ کس قدر م کھیوں کا جھمکٹا اس پر چمٹا ہوگا قصور کس کا ہوگا تمہارا یا ان مکھیوں کاان کا تو کام یہ یہی ہے اس لیے قصور بھی تمہارا ہوا نا تمہیں اسے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے تھاناکہ اب مکھیوں سے جھگڑنا شروع کردو بس ایسے ہی اگر ہم بے ہودہ فیشن زدہ برقعے میں باہر نکلیں گے اور برقع بھی ایسا جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرے اپنی خوبصورتی اور فیشن کیوجہ سے تو ہم کسی کی نگاہوں پر پابند ی لگانے کے مجاز نہیں ہیں۔بات صرف ڈیڑھ گز کے حجاب اور چارگز کے عبایا کے اس ٹکڑے کی نہیں بات اس محبت کی ہے جو تمہارے رب کو تم سے ہے بات تو اس فکر کی ہے جو وہ پیارا رب تمہارے لیے کرتا ہے اسی وجہ سے اس نے اس حجاب کو تمہارے لیے چنا اور بات تو اس احسان کی ہے جو اس عظمتوں والے رب نے تم پر کیا اور تمہیں ایک محفوظ حصار عطاء کردیا۔ کیاوجہ ہے کہ آپ برقع بھی اس لئے پہننے لگے کہ دور سے پہچان لئے جائیں کہ دیکھو کتنی خوبصورت فٹنگ کے برقع والی آرہی ہےسوچو اس نے تو تمہیں کسی بھی ہیرے سے زیادہ قیمتی بنایا جسے غلافوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے ۔بہن اگر فیشن کرنا ہی ہے تو پھر برقعے کو چھوڑو یہ منافقت کسی ویسے بھی منافق بندہ مشرک سے بھی برا ہوتا ہے برقعے کی اہمیت اور قدر پر سوالیہ نشان نہ بنو یہ ایک عزت اور فخر ہے نہ کہ مجبوری جسے تم اپنی مرضی سے کسی بھی طرح بگاڑتی جاؤ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.