کرشمات کی کہانی۔۔۔حسن حیات کی اپنی بیوی سعدیہ کے ماں بننے کی تحریر نے سب کو حیران کردیا

ماں بننا کسی کرشمے سے کم نہیں لیکن پاکستانی معاشرے میں اکثر اس اہم ترین لمحات کو صرف عورت کے حصہ کا لکھا سمجھ کر نارمل لیا جاتا ہے۔۔۔بہت کم شوہر ہوتے ہیں جو اس درد اور اس جذبے کو سمجھ پاتے ہیں جس سے ایک عورت اس وقت گزر رہی ہوتی ہے۔۔۔ شوبز میں بھی اکثر مرد ان لمحات

کی ترجمانی صحیح سے نہیں کر پاتے۔۔۔ لیکن اداکار حسن حیات نے اپنی بیوی سعدیہ غفار کی شان میں باقاعدہ پوری کہانی ہی لکھ ڈالی۔۔۔ کیونکہ ان کی بیٹی رایا حیات کی پیدائش امریکہ میں ہوئی اور وہ اس وقت وہاں سے دور تھے تو انہوں نے اس سارے تجربے کو کرشمات کی کہانی کا نام سے ڈالا ہے۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ دو جولائی کی رات تھی اور میں شوٹ ختم کروا رہا تھا اور سوچ ہی رہا تھا کہ امریکہ کی فلائٹ پانچ تاریخ کو ہے۔۔۔اور میں پیکنگ کے متعلق نہیں بلکہ اپنی حاملہ بیوی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔میں گھر کے راستے میں تھا تو ٹریول ایجنٹ کی کال آئی کہ آپ کی فلائٹ کینسل ہوگئی ہے اور اب کوئی بھی متبادل فلائٹ ملنا مشکل ہے۔۔ میرے دل نے جیسے دھڑکنا بند کردیا کیونکہ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ بچے کی پیدائش دس

جولائی تک متوقع ہے اور ایجنٹ کا کہنا تھا کہ چودہ جولائی سے پہلے فلائٹ ملنا مشکل ہے۔۔۔میں سعدیہ کو یہ کیسے بتاتا وہ پہلے ہی سب کچھ میرے بغیر وہاں سہہ رہی تھی ۔۔۔میں اسے کیسے کہتا کہ اس اہم وقت پر تمہارا شوہر تمہارے پاس نہیں پہنچ پائے گا۔۔۔ میں نے منتیں کیں ایجنٹ کی کہ پوری کوشش کرے میری فلائٹ کی ۔۔۔دوسری صبح جب میں اٹھا تو ایجنٹ کی سولہ مس کالز تھیں ۔۔۔اور اس نے بتایا کہ چار جولائی کی فلائٹ ہوگئی ہے۔۔ میں کتنا قریب تھا اس اہم لمحہ کو کھونے کے لیکن کرشمہ ہوا اور اب میں اس سے بھی ایک دن پہلے جا رہا تھا۔۔۔حسن کا کہنا ہے کہ میں نے سوچا کہ میں سرپرائز دوں گا سعدیہ کو کہ میں ایک دن پہلے پہنچ گیا لیکن استنبول ایئرپورٹ پر رک کر جب کال کی تو سعدیہ نے بتایا کہ اسے ہسپتال شفٹ کردیا گیا ہے۔۔۔میں کس طرح لاس اینجلس امریکہ پہنچا یہ ایک بہت طویل سفر بن گیا تھا۔۔۔ لیکن کافی مشکلات اور معجزات کے ساتھ جب ہسپتال پہنچا تو کمرے کا

دروزہ کھلتے ہی مجھے اپنی بیوی کا چہرہ دیکھنے کو ملا اور میں اس احساس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کہ مجھے سعدیہ سے محبت کا شدید اندازہ ہوا۔۔۔سعدیہ نے ایک گہری سانس لی اور اس کی آنکھ کے کنارے سے ایک آنسو نیچے آیا۔۔۔بارہ گھنٹے سعدیہ کی وہ ساری کوشش میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور خود کو بے بس محسوس کیا جس میں وہ بچے کی آمد کی انتظار میں خود پر نا جانے کتنے جبر کر رہی تھی۔۔۔ پھر وہ وقت آیا جب ہماری بیٹی کے آنے کا وقت آپہنچا۔۔۔پاکستان میں ہوتا تو کمرے سے باہر نکال دیا جاتا لیکن وہاں مجھے اپنی بیوی کی سپورٹ میں کھڑے رہنے کا کہا گیا۔۔۔ اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ ماں بننا کس قدر بڑا امتحان ہے ایک عورت کا۔۔۔ ڈیڑھ گھنٹہ میں نے سعدیہ کا ہاتھ تھاما اور وہ اپنے درد سے لڑتی رہی۔۔۔ اور پھر ہماری زندگی کی سب سے بڑی خوشی نے دنیا میں آنے کا اعلان کیا۔۔۔ایک کے بعد ایک کرشمات نے مجھے احساس دلایا کہ سعدیہ نے مجھے زندگی کی کتنی بڑی خوشی دی ہے۔۔۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *