میں یہاں اس لیے آیا تھا کہ گھر والوں کو اچھی زندگی دے سکوں ۔۔ بیرون ملک میں کچرا چننے والے 76 سالہ پاکستانی کی رلا دینے والی کہانی

مارے ملک میں غریبہ بہت ہے جس کے باعث لوگ ہمیشہ ہی یورپ یا اور امیر ممالک میں کام کرنے کیلئے جاتے ہیں یہاں ہم آپکو آج ایک ایسے ہی 76 سالہ بزرگ مناظر حسین کی دردناک کہانی بتائیں گے جو کہ اسپین تو گیا تھا کام کرنے کیلئے تاکہ اپنے بیوی ،بچوں کو اچھی معیاری زندگی فراہم کر سکے

مگر اسکی عمر جب وہ اسپین پہنچا تو 60 سال سے زائد تھی جس کی وجہ سے نہ تو اسے کام کرنا کااور نہ ہی رہنے کا اب تک حق نہیں مل سکا۔
مناظر حسین نامی بابا پاکستان میں اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہیں اور اسپین میں یہ سڑکوں پر رہتے ہیں اور کچرے کے ڈھیر سے اور کوڑا دان سے کولڈ ڈرنک اور مشروبات وغیرہ کے خالی ڈبے چنتا ہے۔ انکے ڈیکوریشن پیس اور کھلونے بناتا جسے اسپین کے شہر بارسلونا کے بازار میں بیچتے ہیں۔ مزید یہ کہ انکا بنایا ہوا یہ سامان اسپین آنے والے سیاح بھی خریدتے ہیں کیونکہ انہیں یہ ایک منفرد چیز لگتی ہے مگر اب کورونا وائرس کے باعث کوئی سیاح بھی نہیں آتا جس کے باعث انکا گزر بسر بہت مشکل سے ہو رہا ہے۔ صرف یہی نہیں جس گھر میں یہ رہتے ہیں وہاں 6 افراد رہتے ہیں اور ہر فی بندہ 150 روپے اس گھر کا کرایہ ادا کرتا ہے اور کھانا پینا الگ ہے ۔ لیکن اب یہ سب بہت زیادہ مشکل ہو گیا کیونکہ کورونا

وائرس کے باعث کام نہیں اب کرنے کو۔ مناظرحسین اسپین کی سڑکوں پر کپڑا بچھا کر کولڈ ڈرنک کے خالی کین سے پلیٹیں بنا کر بیچتے ہیں لیکن کوئی بھی انہیں اپنی دوکان کے سامنے نہیں بیٹھنے دیتا اور پولیس بھی ناہیں کہتی ہے کہ آپ یہاں وہاں بیٹھ نہیں سکتے اس لیے یہ دن بھر یہاں سے وہاں گھوم گھوم کر یہ چیزیں بیچتے ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف اسپین کی ایک راقیل پرادو نامی ماہر قانون کہتی ہیں کہ مناظر حسین جیسے اور بھی بہت لوگ ہیں جو لوگ یہاں آتے تو ہیں لیکن انہیں اسپین کے قانون کا علم نہیں ہوتا اب اگر انکی عمر 60 سال سے کم ہوتی تو انہیں کام کرنا کا اور رہنے کا مستقل حق مل سکتا تھا، اسپین میں رہنے کی شہریت لینے کا ایک اور بھی حل ہے کہ کوئی اور رشتےدار اپنی مہانہ آمدنی کا حکومت کو بتا کر انکی کفالت کی زمہ داری لے لے لیکن انکے سب رشتے دار بھی پاکستان میں ہیں اس لیے یہ بھی ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ اب انکے تمام شہرین کیلئے قانونی دستاویزات بننے کے مراحل میں ہیں جس سے ان کی پینشن لگ جائے گی کیونکہ اسپین میں 65 سال کے بعد کوئی شخص کام نہیں کر سکتا ۔تمام قانونی دستاویزات بنانے میں چند مقامی لوگوں نے انکی مدد کی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.