ان کی 3 بیویاں ہیں ۔۔ بلوچستان کے 3 بڑے تاریخی لیڈروں کی ایسی باتیں جو کوئی نہیں جانتا

ان کی 3 بیویاں ہیں ۔۔ بلوچستان کے 3 بڑے تاریخی لیڈروں کی ایسی باتیں جو کوئی نہیں جانتابلوچستان کی تاریخ میں 3 سرداروں کو تاریخی حیثیت حاصل ہے ،انہیں یہ حیثیت کیوں حاصل ہے اور وہ کون ہیں، ان کے بارے میں وہ دلچسپ باتیں آپکو بتائیں گے جو آج سے پہلے اپ نے نہیں سنی ہوں گی۔آیئے جانتے ہیں۔

بلوچستان کی تاریخ میں سب سے پہلے میر چاکر ازم رند ک نام آتا ہے جنہیں بلوچ قوم اپنا سب سے بڑا لیڈر و رہنما مانتی ہے ، انہوں نے پہلی بار بلوچ قوم کو ایک قوم کی شکل میں جمع کیا اور پھر ریاست بنائی ، صرف یہی نہیں انہوں نے دہلی میں شیر شاہ سوری کی چھوڑی ہوئی سلطنت کو ختم کرنے اور مغل بادشاہ ہمایوں کو حکومت دلوانے میں بہت مدد کی جس پر ہمایوں انکا ہمیشہ شکر گزار رہا۔ آخری عمر میں یہ اپنے 7 خاندانوں کے ساتھ پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے علاقے ستگراہ میں آکر آباد ہو گئے اور اب ان کا یہاں ہی مقبرہ بھی ہے۔ یہ بلوچ قوم کے دوسرے بڑے لیڈر و رہنما ہیں ۔ یہ اللہ والے بندے تھے، دن اور رات میں بہت وظیفے بھی کیا کرتے تھے ، اور انہیں بہت بھروسہ تھا کہ قرآن پاک پرھنے سے کوئی مصیبت نہیں آتی اور نہ آئے گی۔ لیکن جنر ل ایوب خان کے دور حکومت میں انکے تعلقات وفاق سے کشھ خراب ہو گئے تھے اور وہ اپنے مطالبات منوانے کیلئے انہوں نےپہاڑؤں کا سہارا لیا اور پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ جس کے بعد حکومت اور انکے درمیان مذاکرات ہوئے اور تمام معاملات حل ہو گئے، اس وقت کے حکمرانوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر یہ وعدہ کیا کہ آپ کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں ۔یاد رہے کہ قرآن پاک پر ہاتھ ہی اس لیے رکھا گیا تھا کہ یہ احتجاج

ختم کر دیں اور سب لوگ جانتے تھے کہ سردار نوروز خان کا مذہب کی جانب رحجان کچھ زیادہ ہے۔ سردار نواب اکبر بگٹی کی 3 بیویاں تھیں اور نواب اکبر بگٹی کے قل 6 بیٹے اور 7 بیٹیاں تھیں جن میں پہلی بیوی سے 4 بچوں کا انتقال ہو گیا ہے جبکہ دوسری اور پہلی بیوی میں سے 1،1 بچہ زندہ ہے اور اچھے زندگی گزار رہے ہیں ۔ نواب اکبر بگٹی انتہائی تعلیم یافتہ تھے ۔ بعض اوقات وہ پڑھاتے بھی تھے اور ڈیرہ بگٹی کالج کے اساتذہ ان سے سبق بھی لیتے ہیں یعنی کہ انہیں سمجھاتے ہیں کہ پڑھانا کیسے ہے۔ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ قبیلے کا سردار بڑا بھائی ہوتا ہے لیکن ایک نجی چینل کے انٹرویو میں سردار نواب اکبر بگٹی نے خود کہا تھا کہ یہ ضروری نہیں کے بڑا بیٹا سردار بنے بلکہ یہ ضروری ہے کہ کون سب سے اچھا ہے اور کس میں صلاحیت ہے قبیلے کے اور تمام دیگر مسائل حل کرنے کی یہی وجہ ہے کہ بڑے بھائی کے بجائے انہیں سردار بنایا گیا ۔ یاد رہے کہ یہ جدید انگریزی ادب اور مغربی فلسفے کے دلدادہ تھے لیکن جب بھی اپنے قبیلے میں کوئی مسئلہ پیش آتا تو لوگوں کو کوئلوں پر بھی چلواتے جو کہ ایک پرانی رسم ہے اتھ ہی ساتھ وہ غیرت کے نام پر قتل کو جائز سمجھتے اور یہ بھی کہا کرتے تھے کہ خدا کو چاہیے کہ وہ اپنے بندوں کو سزا نہ دیا کرے بلکہ معاف کر دیا کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *