”کلیجی کھانے کے شوقین حضرات پہلے اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان سن لیں کیا نبی کریم ﷺ کلیجی کھایا کرتے تھے؟“

السلام علیکم آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کلیجی کے بارے میں شریعت اسلامی کیا کہتی ہے آیا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلیجی کھایا کرتے تھے یا نہیں کیا انہوں نے کلیجی کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو کلیجی کھانے کی ترکیب دی تھی یا نہیں آئیں ہم آپ کو سرور کائنات

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کے مطابق کلیجی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جس چیز میں اتنے زیادہ فوائد ہیں آیا کہ وہ حلال بھی ہے یا نہیں۔ کیا ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کلیجی کا استعمال کیا کرتے تھے تو ابن ماجہ کی حدیث میں کلیجی کے بارے میں یہ ارشاد گرامی ملتا ہے۔ روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ ہمارے لئے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے دو مردے تو مچھلی اور ٹینڈے ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہے یعنی دونوں جانور بغیر ذبح حلال ہیں کیونکہ ان میں بختہ خون موجود نہیں ہوتا اور ذبح کرنا اسی کو اللہ کے نام پر نکال دینے کے لئے کہا گیا ہے ۔ جب وہ چیزیں ان میں نہیں تو ان کا زبح بھی نہیں خیال رہے کہ مچھلی بہت سی اقسام کی ہوتی ہیں اور ہر قسم کی مچھلی حلال ہے مگر ذبح خانہ درست ہے بعض مچھلیوں میں خون نکلتا معلوم ہوتا ہے مگر وہ خون نہیں

ہوتا بلکہ سرخ پانی ہوتا ہے اس لئے دھوپ میں سفید ہو جاتا ہے خون کی طرح نہ سیاہ پڑتا ہے اور نہ جمتا ہے ایک اور ضعیف روایت ہے جس میں یہ ذکر ملتا ہے کہ سب سے پہلے کلیجی کھانا سنت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ نماز عیدالاضحی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور کو ذبح فرماتے اور کلیجی پکانے کا حکم دیتے جب وہ تیار ہو جاتی تو اسے تناول فرماتے قربانی کرنے والے کے لیے یہ سنت ہے ۔ کہ قربانی کے گوشت میں سے سب سے پہلے کلیجی کھائی جائے کہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت ہے کیونکہ اہل جنت کو جنت میں سب سے پہلے اس مچھلی کی کلیجی کھلائی جائے گی جس پر زمین ٹھہری ہوئی ہے تو اس لیے کلیجی کا استعمال ضرور کیا کریں اس کا کھانا سنت ہے اور میڈیکل کے لحاظ سے اس کا کھانا صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔اس اچھی انفارمیشن کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ شئیر کریں گے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.