سخت ترین مشکل میں یہ آیت پڑھناشروع کی

ایک چھوٹی سی آیت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ فوری طورپر مدد فرماتے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک شخص رہتے تھے ابھی ایک مہینہ دعوتِ تبلیغ میں لگا کے آئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں۔ میرے گھر پر تبلیغ وا لے آتے تھے میں ہر وقت ٹال دیتا تھا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں

ایک دن ان کے ساتھ تبلیغ پر چلاگیا۔ اور گشت کے بعد نمازِ ظہر پڑھی۔اس کے بعد درس کی تعلیم دی گئی۔ میں بھی بیٹھ گیا۔ ان سے سنا کہ اللہ تعالیٰ کیسے دعائیں قبو ل فرماتے ہیں۔ وہ کونسی دعائیں ہیں جو قبول ہوتی ہیں ۔ ان میں ایک بزرگ نےکہا کہ ہر مشکل وقت میں یہ دعا پڑھنا “حسبنااللہ ونعم الوکیل” ۔اس سے دعائیں قبول ہو جائیں گی۔ میں مذاق بنا کر چلاگیا۔ ایک دن بہت سخت گرمی پڑرہی تھی ۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ کہیں باہر گھومنے کےلیے گئے۔ جب واپس آنے لگے۔ تو شدید بارش ہورہی تھی۔ جس سے ہرطرف کیچر تھا۔اور ساتھ میں ٹریفک بھی جام ہوگئی تھی۔ شدید بارش کی وجہ سے میری گاڑی ایک ٹیلے پر پھس گئی۔ جس سے نکلنا ناممکن تھا۔ سب نکل گئے۔وہاں پر پہاڑی سے پتھر گرنے کا خدشہ بھی تھا۔ میں نے ہر طرف مدد کےلیے پکارا کوئی نہ آیا۔ اور شام ہوگئی ۔ میں بہت پریشان ہو گیا اور بہت آوازیں لگائیں کو ئی مد د کو نہ آیا ۔پھر مجھے اس محفل میں اس بزرگ کی با ت یا د آئی جب کو ئی مشکل پیش آئے تو یہ دعا پڑھنا ۔تو میں نے وہ دعا “حسبنااللہ ونعم الوکیل” کا ورد کرنا شروع کر دیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا

میری گاڑی جہاں پھسی ہوئی تھی وہاں سےفوراً نکل آئی۔ اورمیری گاڑی ایسی دوڑی جیسے پکے روڈ پر چل رہی ہو۔ اس واقعہ کا بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جب انسان کسی مشکلات ،پریشانی کےبھنور میں پھنس جاتا ہے ہر طرف نظریں دوڑاتا ہے ہر طرف سے انسان جب مایوس ہو جاتا ہے۔ تو پھر کوئی نہیں ہوتا سوائے اس کے سوا جو آپ کو مشکلات میں سے نکالے۔ یہ واقعہ جہاں تک ہو سکے بتائیں۔ کہ کیسے “حسبنااللہ ونعم الوکیل” کے ورد سے اللہ تعالیٰ نے مدد نازل فرمائی۔ اللہ اس موقع پر گناہوں کو نہیں دیکھتے یا دین سے غافل ہے بلکہ ہم تو محمدمصطفیٰﷺ کی اُمت میں سے ہیں جس کی امت میں آنے کےلیے نبیوں نے بھی دعائیں مانگیں۔ اللہ سے دعا مانگیں کہ ہمیں بھی امت ِمحمدی میں سے بنا۔ اب ایک اور واقعہ بنی اسرائیل کا بتاتےہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں ایک نوجوان تھا۔ جو بہت ہی سرکش تھا اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا۔ اس کو موت آگئی ویرانے میں۔ شہر کے دروازے کے قریب ، شہر کے دروازے والوں نے نکال دیا تھاکہ تم اتنے گناہ گار ہو کہ کہیں تمہاری وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے۔ اس کو شہر سے دھکے

دےکرنکال دیا تھا ۔ اب وہ ویرانے میں تھا۔ویرانے میں اس کا نہ کوئی کھانا، نہ پینا، نہ رشتہ دار اور نہ ہی کوئی غمگسار تھا سردی کا موسم تھا۔ اور وہ بیمار ہوگیا۔ اور دوا دینے والا بھی کوئی نہ تھا۔ اب اس کو احساس ہوا یہاں میرا اب کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ اس کی وہیں موت واقع ہو گئی۔ حضرت موسیٰؑ کو وحی نازل ہوگئی۔ میرے اولیاء میں سے ایک ولی کو موت آگئی ہےآپ وہاں جائیے اور اس کو نہلائیں اور اس کے جنازے کی نماز پڑھیں۔ اور اعلان کر دیں ۔ جس کے گناہ بہت زیادہ ہوں وہ اس کے گناہ میں شامل ہوجائے گا۔ میں اس کے گنا ہ بھی معاف فرمادوں گا۔ جب حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل میں اعلان کیا تو سارے لوگ گھروں سے نکل کر وہاں پہنچ گئے۔ پھر آپؑ اس کو بلند کیجئے تاکہ میں بہترین ٹھکانہ عطاء کروں۔ بہت سارے لوگ وہاں پہنچ گئے اور مجمع اکٹھا ہوگیااور اس بندے کو پہچان لیا۔ تو کہنے لگے اے اللہ کے نبی! یہ تو وہ فاسق ہے جس کو ہم نے اپنی بستی سے نکال دیا تھا۔ حضرت موسیٰؑ کو بڑا تعجب ہوا یہ تو وہی باغی ہے۔ جو گناہوں کے بغیر رہتا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ صیح کہہ رہے ہیں لوگ

اور گواہ ہیں ۔ جب اس ویرانے کے اندر اس کی وفات ہوئی۔ جب اس نے دائیں دیکھا اور بائیں دیکھا تو اس کو ئی نظر نہ آیا اس نے اپنے نفس کو بہت باریک پایا۔ اپنے آپ کو ذلیل پایا۔ خود کو ٹوٹا ہوا پایا پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا کر یہ الفاظ کہےاے اللہ تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں غریب ہوں شہر سے نکلاہوا ہوں کوئی مجھے رہنے نہیں دیتااگر میں جان لیتا کہ آپ کا عذاب جو آپ مجھے دیں گےآپ کے ملک میں اضافہ ہو جائے گا۔ اگر مجھے معاف فرما دیں گے۔ آپ کی شاہی میں سے کمی آجاتی میں آپ سے مغفرت کا سوال ہی نہ کرتا میرا درجہ آپ کے سوا کوئی دوسرا نہیں اور آپ نے یہ فرمایا ہے کہ آپ غفور اور رحیم وکریم ہوں اللہ میری امید پر ناکام نہ کردیں۔تو اے موسیٰؑ مجھے یہ اچھا لگتاہے اس نےمیرے وسیلے سےہی دعا کی۔ میرے سامنے گرگرایااورمیں اپنی عزت کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ساری دنیا کے گناہوں کی دعا کی ہوتی تومیں اس کے انکسار کی وجہ سے سب کے گناہوں کو معاف کردیتا۔ اے موسیٰؑ میں پردیسی بندے کی پناہ گاہ ہوںمیں اس کا دوست ہوں اور میں اس کا رقیب ہوں۔ اور میں اس پر رحمت کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.