مفلس ترین شخص کون؟قیامت کے روز اس کے ساتھ کیا ہوگا؟

رسول اللہ ﷺ نے چوتھا گناہ بیان کیا جو ہاتھ سے ہوتا ہے جانتے ہوں مفلس کون ہے صحابہ کہنے لگے نادار فقیر محتاج مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں فرمایا نہیں یہ لوگوں کے مقیاس اور میزان ہیں فلاں غریب ہے غریب اور مسکین تو وہ ہے نمازی روزے دار صدقہ دینے والا زکوۃ دینے

والا اتنے اچھے کام کرنے کے باوجود کرتا کیا ہے کسی کو اس نے گالی دی ہوگی کسی کو ناحق مارا ہوگا کسی کو ناحق قتل کیا ہوگا کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا اللہ قیامت کو سب کو بلا لیں گے دینے والا ایک ہے نیکیاں اور لینے والے اتنے لوگ ہیں کیونکہ وہاں درہم و دینار دے کر جان نہیں چھڑا سکیں گے وہاں تو نیکیاں دینی پڑیں گی نیکیاں دی جارہی ہیں ابھی نیکیاں ان کو تقسیم ہورہی ہوں گی حقوق لینے والے ابھی بھی باقی ہیں پھر کیا ہوگا پھر ان لوگوں کی برائیاں اٹھا کر اس نمازی پر ہیز گار کے سر پر رکھی جائیں گی اور اس کو جہنم رسید کردیاجائے گا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے (صحابۂ کرام سے) دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم مفلس اُسے سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیاوی مال ومتاع نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں درحقیقت مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اس حال میں

آئے گاکہ (اس کے نامۂ اعمال میں )نماز یں روزے اور زکوٰۃ(یعنی عبادات)تو ہوں گی لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر ناجائز تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہوگا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو ان تمام حق داروں کو (اُن کے حقوق کی تلافی کے لیے) اُس کی نیکیاں منتقل کی جائیں گی پھر جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور اس کے ذمے حقوق (بدستور) باقی رہیں گے تواُن (حق داروں )کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے پھر اسے جہنَّم میں جھونک دیا جائے گا۔ آج کل ہمارے وطنِ عزیز میں قومی انتخابات کی مہم اپنے آخری مراحل میں جاری وساری ہے اوران انتخابات کے بعد پتا چلے گاکہ انتخابات کے نتیجے میں قوم کے حالات میں پہلے سے بہتری آتی ہے یا حالات حسبِ سابق جاری وساری رہتے ہیں یا اُس سے بھی بدتر ہوجاتے ہیں اس کا علم اللہ کے پاس ہے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات سے بہتری کی امید رکھنی چاہیے اور اسی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔لیکن اس انتخابی مہم نے سرِدست قوم کوجو تحفہ دیا ہے وہ سیاسی قائدین کی اخلاقی گراوٹ کا ہے جوکہ افسوسناک ہے ۔عربی کا مقولہ ہے : لوگ اپنے

بادشاہوں (یاحکمرانوں) کی روش کو اپناتے ہیں ، سو ہمارے مستقبل کے حکمران قوم کو بداخلاقی کا جوتحفہ دے چکے ہیں اس کے مظاہر سوشل میڈیا پردیکھے جاسکتے ہیں ۔ہمارے سیاستدانوں کو صرف تعریف پسندہے تنقید انہیں ناپسند ہوتی ہے حالانکہ منہ پر تعریف ہلاکت کا باعث ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(1) جب تم (منہ پر)تعریف کرنے والوں کو دیکھو تواُن کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔ (2)ابومعمر بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اور حاکمِ وقت کی تعریف کرنے لگاتو مقداد نے اس کے چہرے پر مٹی ڈال دی اور کہا:رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم خوشامدیوں کے چہروں پر مٹی ڈالیں ۔اس کی شرح میں امام یحییٰ بن شرف نووی نے لکھا: حضرت مقداد نے اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا اور بعض دیگر محدثین نے بھی اسے ظاہری معنی میں لیا ہے اور وہ خوشامدیوں کے چہروں پر فی الواقع مٹی ڈالتے تھے اور دوسرے محدثین نے فرمایا: اس کا معنی یہ ہے کہ ایسے خوشامدیوں کو نامراد کرو انہیں تعریف پر تھپکی نہ دو اور جب تمہاری تعریف کی جائے تو یاد رکھو کہ تم مٹی سے ہو سو تواضع کرو اور اِترائو نہیں (کیونکہ مٹی کی خاصیت عَجز اور اِنکسار ہے ) ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.