”ناخن کاٹنا یا بر بادی؟؟ رات کے وقت ناخن کاٹنے والو سب کام چھوڑ کر حضرت علی ؓ کی وارننگ سن لو۔“

رات کے وقت ناخن کاٹنے مںں کوئی حرج نہںی، جو لوگ رات کو ناخن کاٹنے کو حرام کہتے ہے وہ بالکل غلط کہتے ہے، اس بارے مںو مختلف قسم کے جو اوہام وخارلات عوام مں مشہور ہںخ، ان کی کوئی حققتی نہںم ہے۔ فتاویٰ عالمگرخی مںو لکھا ہے کہ خلفہ ہارون رشدو نے ایک مرتبہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ

سے پوچھا کہ رات کے وقت ناخن کاٹنے کا کا حکم ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ رات کو بھی کاٹ لنے چاہںیح،(یینک صبح کا انتظار نہںو کرنا چاہے ) تو ہارون رشدت نے پوچھا کے اس بات پر کاہ دللی ہے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خرٹ (ثواب) کے کام کو مؤخر نہں کرنا چاہےم۔اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ رات کو ناخن کاٹنا اچھا عمل نہںک ہے ایی طرح پر آپ نے یہ بھی سنا ہو گا کہ رات کو جھاڑو دینا اچھا نہ ہے یہ تمام باتںم جو ہم سنتے ہںن تاریخ مںپ ان کے بارے مںٹ متخلف واقعات رونما ہو چکے ہوتے ہںرجن کی وجہ سے کچھ ایسے کاموں سے روکا گا ہے جو کہ رات کو نہں کرنے چاہییے ان مںے سے ایک یہ ہے کہ رات کو ناخن نہںی کاٹنے چاہےے جس کے پچھےو ایک واقعہ ہے جو کہ درج ذیل ہے کہ ایک دن حضرت علیؓ عشاء کی نماز کے بعد اپنے گھر کو جارہے تھے کہ ایک شخص اپنے ناخن کاٹ رہا تھایہ دیکھ کر آپؑ اس شخص کے پاس

گئے اور فرمایا کہ اے شخص مںھ نے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علییہ والہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اپنے ناخن کاٹتا ہے وہ تنگدستی ،پریشانی اور بمااری مں؟ گرفتار ہو جاتاہے تو اس پر اس شخص نے کہا کہ اے علیؓ کاش مںخ ایک سوال کر سکتا ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا جو سوال کرنا چاہتے ہو کرو تو اس شخص نے پوچھا کہ اے علیؓ رات کو ناخن کاٹنے سے پریشانی ،تنگدستی اور بما ری کونں آجاتی ہے اس کی کاج وجہ ہے تو آپؑ نے فرمایا کہ اے شخص جب آدم ؑجنت مںک تھےتو اللہ تعالیٰ نے جنت کی سب سے بہترین دھات جس سے لوہَِ محفوظ کو بنایا گان تھا اللہ نے اس دھات کا لباس آدمؑ کے جسم پر پہنایا جو کہ ناخن کی مثل تھا اس لباس سے آدمؑ اور ان کی بوحی کا جسم ڈھکا ہوا تھا لکنٓ جب افسوس جب آدمؑ نے نافرمانی کی تو اور اس شجر کے قریب گاا جس سے اس کو روکا گال تھا تو اللہ نے اس لباس کو آدمؑ کے جسم سے جدا کر دیا تو آدمؑ کا جس

ان کو نظر آنے لگا تو اللہ نے ناراض ہو کر آدمؑ کو اور ان کی بوای حواء کو جنت سے زمنا بھج دیا تاکہ آدمؑ اور ان کی اولاد اپنے امتحانات سے گزر کر ثابت کر سکںا کہ کار وہ جنت مںہ رہنے کے قابل ہںز بھی یا نہںج۔لکن اس لباس کا کچھ حصہ انسان کی پاؤں کی اور ہاتھوں کی انگلوکں پر رہ گار ۔اللہ نے رات کو سکون آرام آور عبادت کے لاک بنایا ہے چاند کی روشنی انسان کے جسم کو تصوف سے ملاتی ہے اور معرفت قریب لے کر جاتی ہے ناخن کا بڑھنا زندہ انسان کی پہچان ہے جو انسان جسم کے اس نورانی حصے کو رات کے وقت کاٹتے ہںر تو اس سے ان انسانوں کے کاموں مں رکاوٹںم پدوا ہوتی ہںشاور ذہن بد تری کی جانب جاتا ہے اور جو انسان اپنے ناخن کاٹ کر راستے مں پھنکں دیتا ہے تو وہی ناخن پر وں تلے کچلے جاتے ہں تو وہ انسان بماتر رہتا ہے اور تنگ دستی اس کے وجود پر ہاوی ہو جاتی ہے اس لے ناخن دن کے وقت کاٹے جائں اور کاٹ کر ایین جگہ پر رکھے جائںا جہاں پر وہ پرسوں تلے کچلے نہ جائںہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.