جب تم میں سے کسی شخص کو نماز میں ۔۔۔؟؟

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ : جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو جہاں تک ہوسکے اس کو روکے۔ اس لیے کہ ش یطان (دل میں وسوسہ ڈالنے اور نماز کو بھلانے کے لیے )اندر گھستا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے۔ کہ (جمائی لیتے وقت) اپنا ہاتھ اپنے

منہ پر رکھے۔ اس لیے کہ ش یطان (مکھی یا کیڑے وغیرہ کی شکل میں بعض اوقات) اندر گھس جاتا ہے (یادرہے حقیقت ش یطان گھستا ہے اور یہی صیحح ہے )۔ جمائی زیادہ کھانے ، آنتوں کے بھر جانےنفس و طبیعت کے بوجھل ہوجانے اور حواس کی کدورت کی وجہ سے پید ا ہوتی ہے۔ جو غفلت ، سستی او ر سوئے فہم کا سبب بنتی ہے۔ نماز میں جمائی آنا ش یطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم کے بوجھل اور ڈھیلے پن اور اس کی فربہی وسستی اور نیند آنے کی وجہ سے آتی ہے۔ یہ ش یطان ہی تو ہوتا ہے۔ جو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ نفس کو اس کی شہوت دی جائیں اور خوب کھایا پیا جائے۔ چنانچہ نمازی کو جب جمائی آنے لگے یا پھر وہ جمائی لینا چاہے تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہوسکے اسے ہٹائے اور روکے ۔ بایں طور کہ دانتوں اور ہونٹوں کو بھینچ کر اسے روکے تاکہ ش یطان کی چاہت پوری نہ ہوسکے یعنی وہ اس کی صورت کو بگاڑ کر اور اس کے منہ میں داخل ہو کر اس پر ہنس نہ سکے۔ اگر ایسا نہیں کرسکتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمادیجئے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا غ صہ نہ کیا کرو۔ اس شخص نے اپنی (وہی)

درخواست کئی بار دہرائی۔آپ ﷺ نے ہر مرتبہ یہی ارشاد فرمایا غ صہ نہ کیا کرو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاقتور وہ نہیں ہے جو (اپنے مقابل کو) پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غ صہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پالے۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو غ صہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو اس کو چاہئے کہ بیٹھ جائے اگر بیٹھنے سے غ صہ چلا جائے (تو ٹھیک ہے) ورنہ اس کو چاہئے کہ لیٹ جائے۔ حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: غ صہ شیط ان (کے اثر) سے ہوتا ہے۔ شیط ان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے لہذا جب تم میں سے کسی کو غ صہ آئے تو اس کو چاہئے کہ وضو کرلے۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص غ صہ کو پی جائے جبکہ اس میں غ صہ کے تقاضا کو پورا کرنے کی طاقت بھی ہو (لیکن اس کے باوجود جس پر غ صہ ہے اس کو کوئی سزا نہ دے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ساری مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اس کو اختیار دیں گے کہ جنت کی حوروں میں سے جس حور کو چاہے اپنے لئے پسند کرل

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.