کند ذہن بچہ ذہین کیسے بنے ؟صبح تازہ روٹی پکا کر اس پر سات مرتبہ یہ الفظ لکھیں۔

اس تحریر میں کند ذہنی کا علاج بتایا جارہا ہے ۔ یہ وظیفہ ان لوگوں کے لئے جن کے بچے کند ذہنی کا شکار ہیں جن کے ذہن کمزور ہیں نہ تووہ پڑھائی میں اتنی کارکردگی اچھی دکھاتے ہیں اور نہ ہی وہ کوئی دوسرے کام میں اتنی کارکردگی اچھی دکھاتے ہیں کیونکہ وہ کند ذہنی کا شکار ہیں اگر وہ سبق

یاد کرتے ہیں تو انہیں سبق بھول جاتا ہے یا کوئی اور دوسرا کام انہیں کہاجائے تو تھوڑی دیر بعد وہ بھول جاتے ہیں یعنی وہ ذہن میں کسی بات کو نہیں محفوظ کرتے اور فورا بھلا دیتے ہیں تو ان بچوں کی کند ذہنی کو ختم کرنے کے لئے آج کا یہ عمل بہت فائدہ مند ہے یہ بہت ہی مؤثر عمل ہے مجرب و اکسیر عمل ہے علماء و صلحاء نے اسے آزماء کر ہم تک پہنچا یا ہے اور ہم نے بھی کئی مرتبہ کئی لوگوں کو بتایا اور فیڈ بیک بہت ہی مثبت رہا جو بچے کند ذہنی کا شکار ہوں ان کے والدین کو چاہئے اگر چھوٹے بچے ہیں تو ان کے والدین یہ عمل کریں سات دن میں اگر مسئلہ حل نہ ہو تو گیارہ دن اگر گیارہ دن میں بھی مسئلہ حل نہ ہو تو پھر اکیس دن تک نہار منہ تازہ روٹی پکا کر اس پر سات مرتبہ شہادت کی انگلی سے یا اللہُ لکھ کر بچے کو اگر کھلائیں گے تو انشاء اللہ بہت اچھا نتیجہ ملے گا اس کا بہت آپ کو فائدہ ہوگا یعنی اکیس دن بعد آپ کو خود ہی محسو س ہوجائے گا کہ بچہ کند ذہنی سے ذہانت کی طرف آرہا ہے اس کی کند ذہنی ختم ہورہی ہے اگر آپ بھی اس عمل کو کرنا چاہیں تو آپ کو بھی اس عمل سے بہت فائدہ ہوگا۔ اور اپنے بچوں کو باہر کی غذاؤں سے بچائیے اور صحت مند غذائیں کھلائیں زیادہ سے زیادہ فروٹس کا

استعمال کیجئے باہر کی تلی ہوئی چیزوں سے اجتناب کیجئے بچوں کے ساتھ بھلائی یہی ہے کہ ان کی صحت کا خیال رکھا جائے بجائے اس کے کہ بچہ کی ضد کو پورا کرتے پھریں اور اسے گندی غذائیں مثلا برگر پیزے وغیرہ کھلاتے پھر ے یہ چیزیں ان کی دماغی صحت پر بھی برے اثرات ڈالتی ہیں اور جسمانی صحت کو بھی خراب کرتی ہیں اور معدےکو بے حد خراب کردیتی ہیں اور جب معدہ خراب ہوتا ہے تو پھر اچھی غذاؤں سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس لئے متوازن غذاؤں کا استعمال کیجئے گھی سے اجتناب کیجئے تلی ہوئی چیزیں بچوں کو نہ کھلائیے ۔فروٹس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیجئے بادام اخروٹ کاجو وغیرہ اپنے بچوں کے معمولات میں شامل کیجئے اور انہیں ان چیزوں کا عادی بنائیے۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *