بیوی کے اخراجات کی ٹینشن ختم

حضور ﷺ کے ایک صحابی کا قصہ صحیح بخاری میں ہے لیکن اگر پتہ نہ چلے اور باپ کی زکوٰۃ بیٹے کو مل جائے توو ہ جائز ہوگی اس کی کیفیت کیا ہوگی صحیح بخاری کی روایت ہے 1422،معن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے میرے والد اور دادا خفص بن حبیب نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی

آپﷺ نے میری نسبت کرائی اور نکاح بھی پڑھایا میں آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوا اور مقدمہ کیا تھا معن کہتے ہیں کہ میرے باپ نے کچھ دینار ایک شخص کو دیئے کہ یہ زکوٰۃ کے دینار ہیں اور مصرف میں تم جو ضرورت مند ہو اس میں تقسیم کردو یزید نے جب مسجد میں ایک شخص کو دے دیئے کہ یہ زکوٰۃ ہے تم تقسیم کردو میں جب مسجد میں آیا تو اس نے مجھے بھی دے دیئے میں نے لے لئے میں نے وہ دینار پکڑے اور گھر آیا باپ نے دیکھ لئے یہ دینار تو میرے لگتے ہیں اور تم میرے بیٹے ہو تم پر تو زکوٰۃ لگتی ہیں نہیں ہے کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نے تو تمہیں نہیں دینی تھی تم تو میرے بیٹے ہو باپ بیٹا دونوں اللہ کے رسول کے پاس چلے گئے یہ قضیہ لے کر تو آپ نے فرمایا یزید تو نے جو نیت کی تمہیں اس کا اجر مل گیا معن جو تیری قسمت میں تیرے پاس آگیا و ہ تیرا ہوگیا اس کیفیت سے تو ایک قصہ موجود ہے بخاری میں لیکن باپ اپنی اولاد کو اولاد اپنے

ماں باپ کو اور اوپر تک کسی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا ہاں شریعت نے ایک بات ضرور کہی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا لیکن بیوی اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے آپ بہت خوش ہوئے ہیں ایک شریعت کا مسئلہ ہے خاوند اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کیونکہ واجب ہے اس پر خرچ کرنا بلکہ سب سے زیادہ اجر کا باعث وہ مال ہے جو آپ اپنی بیویوں پر خرچ کرتے ہیں حدیث کے الفاظ کیا ہیں تم اپنی اہلیہ پر خرچ کرتے ہو اپنی اولاد پر خرچ کرتے ہو اپنے خادم پر خرچ کرتے ہو یا اپنی جان پر خرچ کرتے ہو ان چار مدات میں آپ ملینز روپیہ بھی خرچ کرتے ہیں قیامت کے دن تمہارے نامہ اعمال میں یہ بطور صدقہ لکھا ہوا ہوگا ۔ایک دینار جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور دوسرا دینار جو تم مسکین پر خرچ کرتے ہو
اور تیسرا دینار جو کسی کی گردن آزاد کرنے کے لئے تم خرچ کرتے ہو اور چوتھا دینار جو تم اپنی اہلیہ پر خرچ کرتے ہو تو سب سے عظیم اجر والا وہ دینار ہو گا جو تم نے اپنی اہلیہ پر خرچ کیا ہوگا۔ کاش امت اس حدیث کو یاد کر لے تو دعویٰ تو نہیں ہے بہت ساری طلاقیں اپنے انجام کو نہیں پہنچیں گے اور وہ گھر جڑے رہیں گے پر مصیبت یہ ہے کہ آج امت نے اپنی ذمہ داریا ں چھوڑ دیں یہ تو نیکی سمجھ کر عبادت سمجھ کر انسان کو خرچ کرنا چاہئے اپنی اہلیہ پر اور یہ اس کا حق بھی ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *