جس مرد کے اندر یہ دو عادات ہوں وہ وفا دار مر د ہے اسے کھونا مت۔

س انپ کا ڈ س ا ہوا انسان تڑپ ٹرپ کر م ر جا تا ہے مگر انسان کا ڈ س ا ہوا انسان م ر نے تک تڑپتا رہتا ہے۔ کسی نا قدرے شخص سے محبت کر نا ایسا ہے کہ آپ اسے سونے کے پیا لے میں آبِ حیات پیش کر یں اور وہ اسے ہو نٹوں کے بجائے اپنے پیر دھو لے جب خود اپنی اہمیت بتانی پڑ جا ئے

تو سمجھ لیں کہ آپ کی کوئی اہمیت نہیں ہمارے ظالم معاشرے نے عورت پر کئی ظلم کیے مگر مرد پر ایک سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اس کے رونے کا حق چھین لیا۔ امید رکھو خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ پتھر میں مو جود کیڑے کو رزق دے سکتا ہے تو تمہیں اچھا نصیب بھی وہی دے گا۔ بس تم یقین کا دامن تھا مے رکھو۔ جو شخص آپ کے دل کا سکون کھا جا ئے اسے آپ کے دل میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عورت اپنے مرد کی شکایت پیر صاحب سے کر تی ہے اور مرد اپنی شکایت ایک طوائف سے کر تا ہے۔ مرنے سے کونسا دکھ ختم ہو جا ئیں گے وہاں بھی پو چھی جا ئے گی وجہ زندگی برباد کرنے کی جس مرد کے اندر یہ د و عادات ہوں وہ وفادار مرد ہے اسے کھونا مت۔ پہلی عادت وہ تمہارے لیے وہ چیز پسند کر ے گا جو تمہارے لیے بہتر ہو دوسری عادت وہ تمہارے جذبات کی قدر کر تا ہوگا۔ اعتبار روح کی طرح ہو تا ہے ایک بار چلا جا ئے تو واپس نہیں آ تا۔ جھوٹ کے دو ذائقے ہو تے ہیں خود بو لو تو میٹھا

اور کوئی دوسرا بولے تو کڑوا لگتا ہے۔ اگر کوئی دل توڑ جا ئے تو یہ سوچ لیا کر یں کہ اللہ کو ٹوٹے ہوئے دلوں سے بہت محبت ہو تی ہے خاموشیاوں کبھی بے وجہ نہیں ہو تیں۔ کچھ درد ایسے بھی ہو تے ہیں جو آواز چھین لیتے ہیں۔ صرف ایک غلطی کی دیر ہو تی ہے اور لوگ بھول جا تے ہیں کہ آپ کتنے شاندار انسان تھے۔ جس سے محبت ہو جا ئے توہ شخص ٹکے کا بھی نہ ہو۔ لیکن وہ سب سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے کبھی تو پڑھنے آؤ میری تحریروں کو میں شاعری نہیں تیرے دیے ہوئے درد لکھتا ہوں۔ نفرتوں کے ہجوم میں ہم یہ بات بھی بھول گئے کہ کسی سے مسکرا کر بات کر نا بھی صدقہ ہے خ و ن ی رشتوں میں جب دوریاں بڑھ جا تی ہیں تو اپنوں کی خبریں غیروں کی زبانی سننے کو ملتی ہیں۔ زندگی میں ہمیشہ وہ لوگ پر سکون رہتے ہیں جو پوری نہ ہونے والی خواہشات سے زیادہ، ان نعمتوں پر شکر ادا کر تے ہیں جو انہیں پر وردگار عالم نے عطا کی ہیں۔ زندگی سے کوئی بچ کر نہیں گیا۔ زندگی انسان کے کئی امتحانات لیتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *