”حدیثِ نبوی ﷺ۔ غسل کب فرض اور کب واجب ہو تا ہے۔“

عبداللہ بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوالات کیے کون سی چیز غسل کو واجب کر تی ہے پیشاب کے بعد آ جانے والے سفید قطروں کا حکم گھر اور مسجد میں نماز کا حکم اور حیضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا آپ ﷺ نے فر ما یا بے شک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شر ما تا رہا مسئلہ

میرا تو جب میں ایسے ایسے کر تا ہوں تو آپ نے غسل کا ذکر کیا پھر میں نماز والا وضو کر تا ہوں اپنی ش ر م گ ا ہ کو دھو تا ہوں اور پھر غسل کر لیتا ہوں۔ رہا مسئلہ پیشاب کے بعد نکل آنے والے قطروں کا تو یہ مضی ہے تو یہ مضی ہے ہر نر کو مضی آ جا تی ہے میں اس کی وجہ سے اپنی ش ر م گ ا ہ کو دھوتا ہوں اور وضو کر لیتا ہوں جہاں تک گھر میں یا مسجد میں نماز پڑھنے کی بات ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہے مگر مجھے اپنے گھر میں مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے فرضی نماز ہو۔ اور راہ مسئلہ حیضہ کے ساتھ کھانےپینے کا تو میں تو ایسی بیوی کے ساتھ کھا تا پیتا ہوں رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پو چھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے ا ح ت ل ا م یاد نہ آ ئے آپ ﷺ نے فر ما یا وہ غسل کر ے اور اس شخص کے بارے میں پو چھا گیا جسے یہ یاد ہو کہ اسے ا ح ت ل ا م ہو ا ہے لین وہ تری نہ پا ئے تو آپ

ﷺ نے فر ما یا اس پر غسل نہیں ہے۔ امِ سلمہ نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے؟ آپ ﷺ نے فر ما یا عورتیں بھی شرعی حکام میں مردوں کی ہی طرح ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری کو بلو ا یا وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا انہوں نے کہا جی ہاں تب رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا کہ جب تم کو کوئی جلدی کا کام آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے غسل ضروری نہیں۔ میں ایسا شخص تھا جسے جار یحان مضی کی شکایت تھی تو میں نے اپنے شاگرد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر یں تو انہوں نے آپﷺ سے اس بارے میں پو چھا آپ ﷺ نے فر ما یا کہ اس مرض میں غسل نہیں ہے ہاں وضو فرض ہے۔ دو مختلف سندوں کے ساتھ ابو وردا کے حوالے سے ان کے والد ابو موسی ؓ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہا جرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا۔ غسل صرف منی کے زور سے نکلنے سے فرض ہو تا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *