انسانی نفسیات کے مطابق

یہ انسان بھی کتنا عجیب ہوتا ہے۔ لاحاصل کو روتا ہے اور حاصل کو رولاتا ہے۔ جب خدا سے محبت ہوجائے، توسجدے بوجھ نہیں لگتے۔ لڑکیاں کبھی ہارتی نہیں، انہیں ہرایا جاتا ہے ، لو گ کیا کہیں گے یہ کہہ کہہ کر چپ کرایا جاتا ہے ۔ جس کو آپ نے غلط لگنا ہوتا ہے۔آپ ہر حال میں اسے غلط ہی لگتے ہیں۔

چاہے کچھ بھی ہو صفائیاں فضول وضاحتیں فضول ہیں۔ جب انسان ہی نہیں رہے گا تو اس کی غلطیوں کا کیا کرنا ہے۔ اس لیے مع اف کردیا کریں اور معانی مانگ لیا کریں اور آگے بڑھنے کی کو شش کریں۔ الفاظ کی نسبت خاموشی زیادہ وضاحت رکھتی ہیں۔ اور خاموشی میں کبھی منافقت نہیں ہوتی۔ جب آ پ کو اپنی اہمیت بتانی پڑجائے تو سمجھ جائیں آپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آنسو فقط ہر دل پر اثر نہیں کرسکتے یہ ان دلوں پر اثر کرتے ہیں۔ جن میں اللہ بستا ہے۔ جب بھی مانگو اللہ سے مانگو، بے حساب مانگو اور بلاجھجک مانگو کیونکہ وہی ایک ذات ہے جو واپسی کا تقاضا نہیں کرتے۔ کسی نے پوچھا کیسے پتہ چلے گا کہ کون کتنا قیمتی ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس میں جتنا زیادہ احساس ہوگا وہ اتنا زیادہ قیمتی ہوگا۔ انسان کبھی کبھی واقعہ ہی ہار جاتا ہے۔ صبر کرتے کرتے ، درد سہتے سہتے ، رشتے نبھاتے نبھاتے ، خاموش رہتے رہتے ، اپنوں کو مناتے مناتے ، صفائیاں دیتے دیتے اور کبھی کبھی خود سے بھی انسان کبھی کبھی واقعہ ہار جاتا ہے۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ وقت بدل جاتا ہے۔ اور پھر وقت نے مجھے

سمجھایا کہ لوگ بھی بدل جاتےہیں۔ اچھے لوگوں کو اگر ٹھو کر ماریں گے ۔ تو وہ ٹوٹیں گے نہیں ، بلکہ آپ کی زندگی سے پھسل کر آپ کی پہنچ سے بہت دور چلے جائیں گے۔ دش من بنانےکےلیے ضروری نہیں کہ آپ کسی سے لڑائی کریں۔ بس حق اور سچ بولیں آپ کو بے شمار دشمن اپنے خاندان میں ہی مل جائیں گے۔ جب دلوں سے انسان نکلتےہیں۔ تو پتہ چلتا ہے۔ کہ ان کی تو ضرورت ہی نہیں تھی۔ ضرورت تو اللہ کی تھی جو ہمیشہ ساتھ تھا ور ہمیشہ ہی رہے گا۔ اکیلے رہنےسے یا اکیلے ہونےسے کسی کو کھو دینےسے یا ٹوٹ جانے کبھی نہ گھبرانا، کیونکہ ایسا ہونےسے رب ملتا ہے اور جب رب ملتا ہے تو سب مل جاتا ہے۔ جب انسان کو کسی سے رشتہ ختم کرنا ہوتا ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی زبان کی میٹھاس ختم کردیتا ہے۔ کچھ لوگوں کو پچھتاوا بھی نہیں ہوتا۔ اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ شاید کسی وقت احساس ہوگا۔ اپنے منفی رویہ کا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ یہ پچھتاوے بھی ظرف والوں کے لیے ہوتےہیں ۔ بے حس لوگوں کے پاس صرف اپنا آپ ہوتا ہے۔ ناسمجھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ جب آپ کو لوگ اور رویے سمجھ آنے لگیں زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔ بلکہ بہت مشکل ۔انسان سخت مزاج تب بنتا ہے۔ جب بہت سارے لوگ اس کی نرمی کا فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انتظار ایک اذیت ہے۔ پھر چاہے ہاتھ میں موبائل پکڑ کر کسی کے میسج کا ہو یا چوکھٹ پر بیٹھ کر کسی کےلوٹ آنے کا یا زندگی سے ہار کر م و ت کا ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *