یوم عرفہ کی خاص فضیلت وا ہمیت

آج آپ کو یوم عرفہ کی خاص فضیلت بتانے کی کوشش کریں گے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاکہ : ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندے کو عرفہ سے زیادہ آگ سے آزاد کرتا ہو۔ یعنی ا س عرفہ کے دن عرفات میں اللہ تعالیٰ سال کے

تمام دنوں کے مقابلے میں سب سے بڑے اور وسیع پیمانے پر گنا ہ گار بندوں کی مغفرت اور جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔ اور بلاشبہ اس دن اپنے رحمت ومغفرت کے ساتھ بندوں کے قریب ہوتا ہے۔ پھر فرشتوں کے سامنے حج کرنے والوں پر فخر کرتا ہےاور فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ جو کچھ بھی چاہتے ہیں۔ میں انہیں دوں گا۔ عرفہ ایک مخصوص جگہ کا نام ہے اور عرفات کی اس کی جمع ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے تقریباً پچیس کلو میٹر اور منیٰ سے تقریباً چھ میل کے فاصلے پر ہے یہ وسیع وعریض میدان ہے۔ جو اپنے تین اطراف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔اور درمیان میں اس کے شمالی جانب 9 و یں ذی الحجہ کو ” عرفہ ” کہتے ہیں۔ یوم عرفہ یعنی میدان عرفات میں 9ویں ذی الحجہ کی دوپہر سے 10 ویں ذی الحجہ کی

صبح صادق تک کچھ دیر کا قیام ، حج کا رکن اعظم ہے۔ جس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ عرفا ت کے مبارک میدان میں ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو جورحمتوں اور برکتوں کے نزول کا خاص دن ہے۔ جب لاکھوں کی تعدار میں اللہ کےبندے اللہ کی طلبی پر لبیک اور تکیبر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے فقیروں اور محتا جوں کی صورت بنا کر وہاں جمع ہوتے ہیں۔ اور اس کے سامنے حجزو نیاز کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اس کی عنایات اور بخشش کے طالب ہوتے ہیں۔اور اس کے حضور میں اپنے اور دوسروں کے لیے رحمت اور مغفرت کے لیے دعائیں اور آہ زاری کرتے ہیں۔ اور ان کے سامنے روتے اور گڑ گڑاتے ہیں۔ تویقیناً “ارحم الرحمین ” کی عطا سمندر جوش میں آجاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے

گی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی شانے کریمی کےمطابق گن اہ گاروں بندوں کی مغفر ت اور جہنم سے رہائی اور آزادی وہ عظیم فیصلے فرماتا ہے جس سے ش یطان بھی جل بھن کر رہ جاتا ہے۔ اور اپنا سر پیٹھ لیتا ہےجیسا کہ ایک حدیث میں ہے ش یطان کسی دن بھی اتنا ذلیل ، اتنا خوار، اتنا دھتکارا او ر اتنا جلا بھنا دیکھا گیا جتنا کہ وہ عرفہ کے دن ذلیل وخواور جلا بھنا دیکھا جاتا ہے۔ اور یہ صرف اس لیے کہ وہ اس دن اللہ تعالیٰ کی رحمت کو موسلا دھار برستے ہوئے اور بڑے بڑے گن اہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اس روز اللہ کی رحمت اس کے بندوں سے بے انتہاء قریب ہوتی ہے۔ میدان عرفات کایہ عظیم اجتماع اتنی برکات اور خصوصیات کاحامل ہوتا ہے کہ ان کا بیان ممکن نہیں۔ کتنے ہی اللہ کے بندے اس مبارک اجتماع کی برکتوں سے فیضیاب ہوتےہیں اور اللہ کے یہاں مغفر ت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اور کتنے ہی لوگوں کی زندگیوں کو یہ اجتماع توحید خالص کے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آتش دوزخ سے رہائی کا فیصلہ اسی طرح فر مادیتا ہےجس طرح میدان حشر میں وہ بہت سے لوگوں کے بارے میں مغفرت کا فیصلہ فرمائےگا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *