حضرت علی رضی اللہ عنہ ، نے فرمایا: صلوٰۃ الحاجت کے فائدے

آج کا وظیفہ حاجت کے حوالے سے ہے۔ اس حا جت کے لیے نماز “صلوٰۃ الحاجت ” ہے۔ جس کو حضور اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھائیں۔اور ساتھ میں تلقین بھی فرمائیں کہ یہ ایک پراثر “صلوٰۃ الحاجت ” ہیں۔ انشاءاللہ جو بھی اس حاجت کو کرے گا۔ اس کی ہر حاجت پوری ہوگی۔ اور اس

کو کسی بیووقوف کو نہ سکھائے کیونکہ اس کے ذریعہ جو بھی دعا مانگی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما لیتے ہیں۔یہ جو وظیفہ ہے وہ حدیث سے ثابت شدہ ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓکو حضور اقدسﷺ نے نماز حاجت سکھائی۔جن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور مرادیں پوری نہیں ہوتیں۔انشاءاللہ اس نمازکی بدولت اللہ آپ کی ہر حاجت پوری فرمادیں گے۔جب بھی یہ وظیفہ کرنا ہے اس کو خاص اللہ رضاکے لیے کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ اس میں خاص اثر ڈال دیتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ نماز چار رکعت “صلوٰۃ الحاجت ” کی نیت سے کرنی ہے۔ پہلی رکعت میں سورت الفاتحہ کے بعد 10 بار سورت اخلاص پڑھنی ہے۔ دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد 20 بار سورۃ اخلاص پڑھنی ہے۔ تیسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد 30 بار سورۃ اخلاص پڑھنی ہے۔ چوتھی رکعت میں سورت الفاتحہ کے بعد 40 بار سورۃ اخلاص پڑھنی ہے۔ اب آپ کی نماز مکمل ہوگئی ہے۔ پھرسلام پھیرنے کے

بعدبیٹھ کر سورۃ اخلاص 50 بار پڑھنی ہے۔ اس کے بعد دوردابراہیمی 70 بار پڑھنا ہے۔ پھر 70 بار “لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّ ۃَ اِلاَّ بِا اللہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ” پڑھنی ہے۔ اس کے بعد دعا کرنی ہے آپ کا جو بھی کا م ہے انشاءاللہ ایک دن میں ہی پورا ہوجائےگا۔ ایک بار اللہ کے بندے سری سختی ؓکہیں جارہے تھے۔ کسی درخت کے نیچے قیلولہ کی نیت سے بیٹھ گئے۔ کچھ دن لیٹنے کے بعد ان کی آنکھ کھلی توا ن کی ایک آواز کی وجہ سے کھلی۔انہوں نے غور کیا کہ ان کی آواز ایک درخت سے آگئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو درخت کو زبان عطافرمائی ۔ اور کہا اے سری تو میرے جیسا ہوجا۔ تو یہ آوا ز سن کر بڑے حیران ہوئے ۔پتہ چلا کہ یہ آواز درخت سے آرہی ہے۔ اس درخت سے متوجہ ہوئے اور کہاکہ کیسے میں تیرے جیسا ہوجاؤں۔اے سری! جو لوگ میرے

اوپر پتھر پھینکتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کی طرف پھل مانگتا ہوں۔تو آپ کے ذہن میں خیا ل آیا کہ درخت اتنا ہی اچھا ہے کہ اسے جب پتھر مارا جاتا ہے اس کے بدلے میں پھل لوٹاتا ہے۔پھر اللہ نے اس کی لکڑ ی کو آگ کیوں بنایا۔ تو آپ نے پوچھا اللہ نے تجھے آگ کا ذریعہ کیوں بنا یا۔ تو اس نے کہا اے سری میرے اندر خوبی بھی بہت ہے اور خامی بھی بہت ہے۔ کہ میری خامی اللہ کو اتنی ناپسند ہے۔ کہ اللہ نے مجھے آگ کا ذریعہ بنا دیا۔میری خامی یہ ہے کہ جدھر ہوا جاتی ہے میں ادھر کو ڈول جاتا ہوں۔یعنی میرے اندر اتنی استقامت نہیں ہے۔ہم بھی اللہ کے آگے جھکتے ہیں لیکن جہاں فائدہ نظر آتا ہے۔ہم وہیں پر چلے جاتے ہیں۔ہم انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔تو خود سوچ کر بتائیں کہ اللہ جس درخت کے ساتھ اتنی ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں تو انسان اس طرح کی حرکت کرے تو کیا اللہ ہمیں آگ کا ایندھن نہیں بنائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *