قرض اتارنے کاوظیفہ

آج ہم آپ کو قرض کے بارے میں وظیفہ بتائیں قرض کا معنی ہے بوجھ کہ کسی سے پیسہ لیا ہے اب وہ اترنے کا نام نہیں لے رہا ۔جب انسان پر بوجھ ہوتا تو وہ پریشان ہوتا ہے ۔ قرض کو کس طرح اداکیا جائے اور قرض کو اُتارنے کا کیا وظیفہ ہے ۔ حضورﷺ نے اس کیلئے کیا دعا عطاء فرمائی ہے ۔ حضورﷺ

نے جو وظیفہ بتایا ہے اس سے بڑھ کرکوئی وظیفہ نہیں ہوسکتا۔ یقین سے اس کو پڑھیں اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم پر جو قرض ہے اس کو ضرور ادا کروادیں گے ۔اس کیلئے بھی کوشش بھی کرنی یہ نہیں کہ دعاپڑھتا رہے اور کام کاج نہیں کرنا ۔آپﷺ نے فرمایا جب کوئی جانور کو تم کسی جگہ باندھو توپھر اللہ پر توکل کرو۔توکل کا مطلب یہ نہیں کہ سارا کام چھوڑ چھاڑ کرکے بیٹھ جائیں اور دعا پڑھتے رہیں۔ کاروبار نہ کریں اور کاروبار پر دلچسپی نہ لیں۔وہ دعا یہ ہے الھم اکفنی بحلالک عن حرامک اغننی بضلک عمن سواک ۔یا اللہ ہمیں حرام سے بچا کر رکھ اور اپنے فضل سے ہمیں دوسرے لوگوں سے بے نیاز کردے۔یعنی قرض اتروادے لوگ ہم سے آکر قرض کا مطالبہ نہ کریں اور ہم سے قرض کے بارے نہ پوچھیں۔یہ دعا 100مرتبہ روزاہ پڑھنے سے انشاء اللہ رب کے فضل وکرم سے آپکا قرض اتر جائیگا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *