خوش نصیب اور بد نصیب

اللہ کی ذات و کبریائی کے ساتھ ہم نے جو جزا وسزا کا جو تصور جوڑ دیا و خود ساختہ ،معاشرتی رجحانات اور محاوراتی تصوارت پر مشتمل ہے۔ یہ نام نہاد کچےپکے علم کا نچوڑ ہے جو ہمیں نفسیاتی کرب میں مبتلا کرتا کہ ہماری دعا قبول نہیں ہورہی ہے تو ہم نا مکمل ہیں ۔ہمارے وجود سے رّب کو لگاؤ نہیں

،کوئی ناقابل معافی گناہ سر ذد ہوگیاہے ۔ایک شرمندگی دل میں جگہ لے لیتی اور ہم اصل رّب کے وجود سے جدا ہو جاتے ہیں۔ پس جس ذات کو طاقت کا سر چشمہ بنا کر ہم نے زندگی کا اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا تھا اور خود کو نکھارنا تھا وہاں ہم ایک کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں ۔زبان پر دعا کے الفاظ تو ہوتے ہیں، پر دل خالی ہوتا ہے۔اللہ توفرماتا ہے ،جب میرا بندہ پکارتا ہے میں جواب دیتا ہوں ۔کہاں لکھا ہے عبادتگزار بندہ پکارتا ہے، تو میں جواب دیتا ہوں۔؟اللہ کو ہماری عبادات کی ضرورت ہے؟فرشتے اس کی عبادت میں دن رات مصروف ہیں۔ یہ سارے مایوس ہونے کےحیلے ہیں۔اللہ نے تو اس مایوس راندء درگاہ ابلیس کے مہلت مانگنے پر اسے بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تو ہم تو اسکےبندے ہیں۔ طوفان میں کب نظر آتا ہےاور پریشانیاں طوفان ہی تو ہوتی ہیں۔ رّب پر یقین کے سہارے چلتے رہیں ۔ ایمان کا حصہ ہے کہ کچھ بھی نظر نہ آرہا ہو تو بھی ہم یقین رکھیں رّب بہترین معاملہ کرنے والا ہے۔ایک اورتوجہ طلب حقیقت کئی دفعہ ہم دعا کررہے ہوتے اور متبادل صورتحال پیش آجاتی ہے۔ دماغ ماؤف ہوکر رہ جاتا ہے۔اتنی سختی کیوں آگئی ہم نے

کیا غلط مانگ لیا؟؟ یہاں حضرت موسی کا واقعہ ہماری رہنمائی کرے گا ، ان کی والدہ کی حالت کا اندازہ کریں وہ حضرت موسّیُ، کو فرعون کے سپاہیوں سے بچانے کے لئے دریا میں ڈالتی ہیں ، تو اللہ کی حکم سے دربار فرعون میں پہنچا دیے گئے۔اللہ ناراض تھا کیا ان سے ؟؟ بالکل نہیں یہ اس کی حکمت تھی۔انسانی آنکھ ہر دفعہ معاملہ کا احاطہ نہیں کر پاتی ہے۔ ایک اور زوایہ نظر کے مسلسل مشکلات کسی کے نااہل ہونے کی نشانی ہیں۔حضرت یوسف کی زندگی کے تمام واقعات حکمت کے بے شمار موتی لئے ہوئے ہے کہ بھائیوں نے کنویں میں ڈالا،بازار مصر میں فروخت ہوئے، غلام بنے ،الزام لگا،قید ہوئی اور آخر میں شاہ مصر کا مقام ملا۔ اگر ان کی زندگی کے ایک ایک واقعہ کو الگ کیا جاتا تو کیسی قیامت تھی جو آئی مگر سب ایک تسلسل جہاں تھا جو ظہور پزیر ہورہا تھا۔تمام واقعات ا اللہ کا نظام ہے وہ بہترین منصوبہ ساز ہے ۔گزشتہ دنوں بہت سے احباب اس عظیم سعادت سے سرفراز ہوئے تو دل چاہا کہ شہادت کے فضائل کا ایک مذاکرہ کر لیاجائے کہ شاید اس طرح دنیا کی محبت میں غرق ہوتے ہوئے ہمارے دلوں میں بھی اس کا

شوق تازہ ہوجائے اور دنیا کی محبت سے کچھ چھٹکارا مل جائے۔شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بلند مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے، شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اﷲ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔(نساء ۔ ۶۹)حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بندے قیامت کے دن حساب کے لئے کھڑے ہوںگے توکچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ،ان سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے ،پوچھا جائے گا کہ یہ کون ہیں ؟ جواب ملے گا، یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی ۔ (الطبرانی ،مجمع الزوائد)شہداء کو اللہ تعالیٰ ایک ایسی اعلیٰ زندگی عطاء فرماتے ہیں کہ جس کا ہم شعور بھی نہیں کرسکتے۔ البتہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی شہید کی کرامت کے طور پر اس کی زندگی کے اثرات دنیا میں بھی دکھادیتے ہیں۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ کا واقعہ مشہور ہے اور یہ واقعہ کئی صحابہ کرام اور مفسرین نے ذکر فرمایا ہے ۔ حضرت ثابت کی بیٹی فرماتی ہیں کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی :

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *