حضرت محمدﷺ کا اونٹ خریدنے کا خوبصورت واقعہ

حضرت امام ذوالقرنانیؒ نے ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے۔ ایک دن آپ ﷺ سیر کرتے مدنی زندگی میں باہر تشر یف لے گئے ۔ وہاں ایک قافلے نے پڑاؤ کیا ہوا تھا۔اور ان کے اونٹ چل رہے تھے۔ایک سرخ رنگ کا اونٹ آپﷺ کو پسند آگیا۔ قافلوں والوں سے پوچھا کہ اونٹ کو بیچتے ہو۔تو انہوں نے کہا ! ہاں بیچتے

ہیں۔تو سودا طے ہوگیا۔ حضور اکر م ﷺ نے فرمایا کہ میں تاجرانہ غرض سے تو نہیں آیا تھا کہ میں قیمت ساتھ لے کر آتا ۔میں تو سیرکرتا ادھر آگیا۔ اور تمہارا اونٹ پسند ہوگیا۔ اور میں نے اس کو سودا کر لیا۔ اپنا اونٹ مجھے دے دو۔ میں شہر جا کر تمہیں اس کی قیمت بھیج دیتا ہوں۔انہوں نے کہا ہمیں منظو رہے۔ حضور نے اونٹ پکڑا اور چل دیے۔جب حضور اکرمﷺ جارہے تھے تو وہ دیکھ رہے تھے۔جب آپ ﷺ آنکھوں سے اوجل ہوگئے تو وہ دلوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد سکتے سے باہر آگئے ،تو یہ اونٹ جس کو ادھار دیا تھا اس کا پتہ پوچھا تھا ۔ جب کسی کو نقد سودا دیا جائے

تو ٹھیک ہے لیکن اگر ادھار دیا جائے تو کوئی ضامن ہو یا کوئی چیز گروی ہو۔ تو کہا ایک شخص آیا اور یہ بھی نہ پوچھا کہ اس کا پتہ کیا ہے؟ نہ تم نے کسی کو ضامن رکھا اور نہ کوئی چیز بھی گروی رکھی۔ تم سب کی عقل پر پردہ آگیا تھا اس کا پتہ تو لیتے کہ وہ قیمتی اونٹ لے گیا ہے۔ ان میں سے ایک بولا کہ وہ جو باتیں کرتے تھے منہ سے پھول گرتے تھے۔کہا میں تو اس منظر کو دیکھتا رہا۔دوسرا نے کہا جب وہ مسکر اتا تھا تو دور پہاڑوں پر عکس نظرآتا تھا۔تیسری نے کہا میں تو اس کی آنکھیں دیکھتا رہا۔تو اس نے کہا تم اس کے حسن میں آگئے اور وہ قیمتی اونٹ ہتھیا لے گیا۔ایک خیمے میں قافلے کے سردا ر کی بیوی نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور ان سے مخاطب ہوکر کہنے لگی !خبردار اس کے خلاف کوئی بات کی۔ اگر وہ قیمت

نہ دینے آیا تو مجھ سے لےلینا۔ میں اس کی ضامن ہوں۔تو وہ کہنے لگی تو اسے جانتی ہے۔تو اس نے کہا واللہ میں بھی نہیں جانتی ۔تو کہا پھرضما نت کیسے دے رہی ہے۔جب تم سودا کررہے تھے تو میں نے خیمے سے اٹھ کر اس کا چہرہ دیکھا تھا۔اور جس کا چہرہ اتنا خوبصورت ہو وہ جھوٹ بو ل نہیں سکتا۔تھوڑی دیر بعد حضوراکرمﷺ کا غلام آیا۔کہ کون ہے جن سے ہمارے آقادوعالم ﷺ نے اونٹ خریدا تھا۔تو انہوں نے کہا ہم نے بیچا تھا تو حضور کے غلام نے کہا حضور نے کھجوریں تمہاری ضیافت کے لیے بھیجی ہیں۔اور یہ تمہاری قیمت ہے۔ اور کہا قیمت بعد میں دینا ہم تو خود بک گئے۔پہلے بتاؤ وہ پیار ا رہتا کہاں ہے۔یہیں نخلستان ِ مدینہ میں ڈیرے ہیں۔اس قبیلے کا نام “وفد طارق”تھا ۔ وہ سارا قبیلہ اٹھا اور مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ اور حضور اکر م ﷺ کے قدموں میں جاکر بیٹھ گئے۔ تیر ی تک کے ادا میں مرید ہوگیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.