جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اس سے کبھی دوستی نہ کرو۔

حضرت علی ؓ نے تین ایسی نشانیاں بتائی ہیں جو کہ کمینے شخص میں پائی جاتی ہیں اپنی زندگی میں آپ نے بہت سارے ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو اپنے کسی نہ کسی عمل کے ذریعے آپ کو اپنا کمینہ پن دکھا دیتے ہیں اور پھر آپ تا عمر جتنی مرضی کوشش کرلیں ان لوگوں کے بارے میں اپنی رائے کو بہتر

نہیں کرپاتے یہ بڑا عجیب سامسئلہ ہے جس میں لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ بات کیسے کرنی ہے کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے کمینے پن کو بچانے کے لئے اور چھپانے کے لئے بہت سی ایسی بھونڈی کوشش کرتے ہیں جن کوششوں کا کوئی ثمر نہیں نکلتا لیکن اس تحریر میں بتایا جائے گا کہ آپ کمینے شخص کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔ دراصل کمینے شخص کی تین بنیادی نشانیاں ہیں جو کہ اس تحریر کا موضوع بحث ہیں۔حضرت محمد ﷺ کی طرف ایک حدیث کی نسبت کی جاتی ہے کہ جس شخص کی بیوی اس سے ڈرے وہ کمینہ انسان ہے دراصل ایسی کوئی حدیث کسی بھی حدیث کی کتاب میں موجود ہی نہیں ہے اور نہ ہماری نظر سے ایسی کوئی بات گزری ہے جس میں کمینے کی کوئی ایسی نشانی بیان کی گئی ہو اور نہ یہ کہ جس شخص کی بیوی اس سے ڈرے وہ کمینہ انسان ہے یہ صرف چند پست ذہنیت کے لوگوں کے چھوڑے شوشے ہوتے ہیں تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ جب تک کسی عالم سے ایسی کسی بات کی تصدیق نہ سن لیں۔ یا اپنی آنکھوں سے خود وہ حدیث پڑھ نہ لیں سنی سنائی پر بالکل نہ چلا کریں جہاں پر پورے کے پورے

حوالے تک گھڑ دیئے جاتے ہیں تو حوالے کی مکمل تصدیق کے بعد اس حدیث کو صحیح مانا کریں پر ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ انٹر نیٹ پر بہت سی ایسی ایپس اور کتب ہماری نظر سے گزری ہیں جن میں یہود و ہنود نے ایسی ترمیم کی ہے کہ عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتی صحاح ستہ کی کتب میں ایسی باتیں احادیث کے نام سے شامل کردی گئی ہیں جو کتب احادیث کے پرانے نسخوں میں موجود ہی نہیں ہیں اس لئے کسی بھی غیر عالم کی بات کو بغیر تصدیق آگے نہ پھیلائیں۔اسلام اپنی آنکھوں سے دیکھی ہوئی اور تصدیق اور دلائل والا دین ہے اس لئے دلائل پر چلیں سنی سنائی پر نہ چلیں اگر آپ کو کوئی بات بتاتا ہے تو بحوالہ ہو تو اسے لیں نہیں۔ تو کسی عالم سے اس کی تصدیق کروائیں ورنہ چھوڑ دیں آگے مت پھیلائیں۔سب سے پہلے کے وہ شخص ہمیشہ بدکلامی کرے گا یعنی جب بھی وہ گفتگوکرے گا بری گفتگوکرے گا بدکلامی اور فحش گوئی اسلام کی تعلیمات اور اس کی خصوصیات کے منافی ہیں ہی انہیں کوئی شریف معاشرہ بھی برداشت نہیں کرتا انسان اپنے کلام سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی گفتگو اس کے کردار اور شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے لوگوں کی نظروں میں بدکلام اور فحش گو کی عزت دو کوڑی کی بھی نہیں رہتی اور اس سے میل جو ل کوئی گوارا نہیں کرتا لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا استعمال ایسے ہے جیسے لوگوں نے فحش گوئی میں پی ایچ ڈی کی ہو بدکلامی بہت ہی بری عادت ہے اور اکثر لڑائی کا باعث بنتی ہے جبکہ اسلام نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *