آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر ایک بار دیکھا یہ دعا مانگی تو ساتوں آسمانوں میں ہلچل مچ گئی۔

ایک شخص ابن حمیر کے نام سے مشہور تھا بڑاعبادت گزار قائم اللیل اور صائم النہار تھا اور شکار کا بھی عادی تھاایک دن شکار کے لئے نکلا تو ایک دن ایک سانپ اس کے سامنے آیا اور کہا کہ اے محمد بن حمیر مجھے پناہ دے دو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی پناہ دے دے گا اس نے کہا تم کس سے پناہ

چاہتے ہو تو سانپ بولاکہ ایک دشمن سے جس نے مجھ پر ظلم کیا تواس ابن حمیر نے پوچھا کہ تیر ادشمن کہا ہے تو سانپ نے فورا کہا کہ میرے پیچھے آرہا ہے اس نے پوچھا کہ تم کس امت سے ہو تو سانپ نے کہا میں امت محمدیہ ہوں تو وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے اپنی چادر پھیلائی اور اس سے کہا کہ تم اس میں داخل ہوجاؤ لیکن سانپ بولا کہ مجھے دشمن دیکھ لے گا توابن حمیر نے پھر کہا کہ میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں تو سانپ کہنے لگا اگر تم نیکی کا کام کرنا ہی چاہتے ہو تو اپنا منہ کھولو تا کہ میں اس میں داخل ہوجاؤ تو ابن حمیر نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ تم مجھے ڈس لوگے تو سانپ نے کہا مجھے اللہ کی قسم میں تجھے نہیں ڈسوں گا اس پر اللہ گواہ ہے۔ اور اس کے فرشتے بھی اور رسول بھی اور اس کے عرش کو اٹھانے والے اور آسمانوں پر رہنے والے فرشتے بھی گواہ ہیں میں تجھے نہیں ڈسوں گا تو ابن حمیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنا منہ کھولا اور وہ میرے منہ میں گھس گیا پھر میں چل پڑا اچانک میرے سامنے ایک شخص نمودار ہوا جس کے ہاتھ میں ایک نیزہ بھی تھا اس نے کہا اے حمیر میں نے کہاکیا چاہتے ہو تو اس نے کہا کہ تم نے میرے دشمن کو دیکھا ہے تو ابن حمیر نے کہا کہ تمہارا دشمن کو ن ہے تو اس نے کہا کہ میرا دشمن قیل سانپ ہے اور میں نے کہا کہ نہیں اور اپنی اس بات پر میں نے سو بار استغفار کیا کیونکہ مجھے تو پتہ تھا کہ وہ کہاں

ہے اور اس وجہ سے میں نے سو مرتبہ استغفار کیا اب کچھ دیر آگے چلا تھا کہ سانپ نے میرے منہ سے اپنا سر نکالا اور کہا کہ دیکھو میرا دشمن چلا گیا ہے تو میں نے ہر طرف نظر دوڑا کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے کوئی نظر نہیں آرہا اب تم نکلنا چاہتے ہو تو نکل آؤ تو سانپ نے کہا اے حمیر اب تم دو باتوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو یاتو میں تمہارے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو یاتمہارے دل میں سوراخ کردو اور تمہاری جان نکال دو تو ابن حمیر نے کہا کہ سبحان اللہ وہ وعدہ کہاں گیا۔۔ جو تم نے مجھ سے باندھ تھا اور وہ قسم کہاں گئی جو تم نے کھائی تھی تو سانپ بولا اے حمیر تم وہ عداوت کیوں بھول گئے ہو جو میرے اور تیرے باپ آدم کے درمیان سے چلی آرہی ہے تم نے کس بنا پر نااہل سے ہمدردی کی ہے تو ابن حمیر نے کہا کیا تم لازما مجھے قتل کرنا چاہتے ہو تو سانپ بولاہاں میں لازما قتل کرنا چاہتا ہوں تو ابن حمیر نے کہا کہ تم مجھے اتنی مہلت دے دو کہ میں اس پہاڑ تک پہنچ جاؤں اور اپنی قبر کے لئے کوئی جگہ بنالوں چنانچہ ابن حمیر پہاڑ کی طرف چل پڑے اور زندگی سے ناامید ہوگئے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ دعا فرمائی : يا لطيف الطف بي بلطفك الخفي و أعني بقدرتك , اللهم أني أنتظر فرجك وأرقب لطفك فالطف بي ولا تكلني إلى نفسي ولا إلى غيرك لا إله إلا الله الرحمن الرحيم , اللهم إني أنزلت بك حاجتي

كلها الظاهرة والباطنة والدنيوية والأخروية اللهم اكفني ما همني وما لا أهتم له .. اللهم زودني بالتقوى واغفر لي ذنبي ووجهني للخير أينما توجهت اللهم يسرني لليسرى وجنبني للعسرى ۔ ابن حمیر کہتے ہیں کہ میں یہ دعا آسمان کی طرف نظر اٹھا کر پڑھتے جارہا تھا اور چلتا جارہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک حسین چہرہ والا پاکیزہ خوشبو والا صاف لباس والا شخص ظاہر ہوا اس نے سلام کیا تو میں نے وعلیکم السلام اے میرے بھائی سے جواب دیا تو اس شخص نے دوبارہ پوچھا کہ کیا بات ہےتمہارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے تو میں نے کہا کہ ایک دشمن نے مجھ پر ظلم کیا ہے تو اس نے پوچھا کہ تیرا دشمن کہاں ہے۔ تو ابن حمیر نے جواب دیا کہ میرے پیٹ میں ہے تو اس شخص نے مجھے کہا کہ اپنا منہ کھولو تو میں نے اپنا منہ کھولا تو اس نے اس میں سبز زیتون کی طرح کا ایک پتہ ڈالا اور کہا کہ اس کو چبا کر نگل لو تو میں اس کو چبا کر نگل گیا وہ کہتا ہے کہ میں کچھ ہی دیر ٹھہرا تھا کہ میرے پیٹ میں مروڑ پیداہوا اور پیٹ میں گردش شروع ہوئی پھر اس پتے نے اس سانپ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پیٹ سے نکال دیا جب مجھے سانپ سے نجات مل گئی تو میں اس شخص سے لپٹ گیا کے اے بھائی تم کو ن ہو جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان کیا ہے تووہ شخص ہنس پڑا اور کہا کہ تم مجھے نہیں جانتے تو ابن حمیر نے جواب دیا میں نہیں جانتا تو اس شخص نے جواب دیا جب تم نے سانپ کو پناہ دینے کے بعد اس کی بد عہدی کے بعد پریشانی کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی تو ساتوں آسمانوں میں ہلچل مچ گئی اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پکار اٹھے اللہ جل جلالہ نے اپنی جلال و عزت کی قسم کھائی کہ سانپ نے میرے بندے کے ساتھ جو دھوکہ اور فریب کیا ہے میں اس کے خلاف اپنے بندے کی ضرور مدد کروں گا پھر مجھے اللہ سبحانہ نے مجھے تمہاری طرف روانہ کیا میرا نام معروف ہے اور میں چوتھے آسمان پررہتا ہوں اللہ ہی نے مجھے حکم فرمایا کہ جنت میں جاؤ اور ایک سبز پتا لے کر اس کو میرے بندے محمد بن حمیر کے پاس لے جاؤ اے محمد تم نیکی کا کام کیا کرو اور برائی کے مقامات سے ا جتناب کرنا اگرچہ تم نے جس سے نیکی کی ہو و ہ اس کو ضائع ہی کیوں نہ کردے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *