میں نے اللہ کی دوستی تین خوبیاں اپنا کر حاصل کی۔۔۔؟؟؟

حضرت معین الدین چشتی ؒ ارشاد فرماتے ہیں ۔ یہ نہ دیکھ کہ تو خاک کا پتلا ہے او رکمزور ہے بلکہ تو یہ دیکھ کر تو اپنے محبوب کےجمال کا آئینہ ہے اور وہ تجھ میں خود جلوہ گر ہے۔بھوکے کو کھانا کھلانا، حاجت روائی کرنا اور دشمن کو مع اف کرنا اچھے نفس کی زینت ہے۔ کسی کا دل مت دکھاؤ

ہوسکتا ہے کہ وہ آنسو تمہاری سز ا بن جائے۔ دکھیوں کی مدد کرنا اور ان کی فریاد سننا افضل عبادت ہے۔ جس نے بھی نعمت پائی ہمیشہ سخاوت سے پائی۔ نیکوں کی صحبت نیک کام سے بھی بہتر ہے۔ اور بروں کی صحبت گن اہ سے بھی بدتر ہے۔ گن اہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا کہ ایک مسلمان بھائی کو ذلیل وخوار کرنا۔قبرستان میں کھانا، پینا اور ہنسنا نہیں چاہیے اور جو ایسا کرتے ہیں۔ انکےدل مردہ ہوتے ہیں ۔ اور وہ منافق ہوتے ہیں۔ بدبختی کی یہ علامت ہے کہ گن اہ کرکے بھی امیدوار بخشش رہے اور گن اہ کو معمولی سا عمل سمجھے۔اگرکافر سو برس تک ” لاالہ الااللہ ” کہتا رہے تب بھی مسلمان نہیں ہوتا جبکہ صدق دل سے ایک دفعہ محمد ﷺ کہنےسے کفر مٹ جاتا ہے۔ خود پرستی اور نفس پرستی ہی دراصل بت پرستی ہے۔ اسکے

بعدخدا پرستی کی منزل شروع ہوتی ہے۔ سب وقتوں میں عمدہ وقت وہ ہے جو وسوسوں اور خطرات سے پاک ہو۔ عار ف کا کم تردرجہ یہ ہے کہ اس میں صفات حق پائی جائیں۔ عاشق کا دل آتش کدہ محبت ہے اس میں جو آئے اسے جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ کیونکہ عشق کا آگ ہر آگ سے تیز ہے۔
عارف وہ ہے جسےرات کی بات یاد نہ ہو۔ سچا دوست وہ ہے جو دوست کی طرف سے آئی مصیبت کوراضی خوشی قبول کرلےاور چوں چوں نہ کرے۔خدا کا دوست وہ ہے جس میں تین خوبیاں ہوں ۔ پہلی : دریاجیسی سخاوت ، دوسری : آفتاب جتنی شفقت اور تیسری : زمین کی مانند تواضع۔اللہ پاک جس کو دوست رکھتا ہے ا س پر بلائیں اور مصیبتیں نازل کرتا ہے۔ تاکہ اس کے دل کو مضبوط کرسکے۔ اوراسے بردباد اور ثابت قدم بندہ بنا سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *