دوسری شادی کرنا چاہتے ہوتو 3 شرطین سن لو

آپ ﷺ کی سنت یہ ہے تعدد ازدواج آپﷺ نے ایک نہیں نو بیویاں ایک وقت میں رکھیں اور امت کے لئے چار بیویوں کی اجازت دی ایک ہی وقت میں ۔عبداللہ ابن عباس اپنے شاگرد کو یہ بات کہہ رہے ہیں امت میں سب سے بہترین وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہیں رسول اکرم ﷺ کے صحابی مسند احمد کی روایت ہے

فرمایا ہم سب سے جو بہتر تھے محمد کریم ان کی بھی بیویاں زیادہ تھیں سنت ہے آپ نے سوائے عائشہ ؓ کے باقی ساری عورتیں متعلقہ یا بیوہ کے ساتھ شادی کی آج معاشرہ اس کو عیب سمجھتا ہے تم محمد مصطفیٰ سے زیادہ نیک تو نہیں ہو ۔ اور تم عزت والے محمد مصطفیٰ سے زیادہ تو نہیں ہو سوائے عائشہ ؓ کے تمام بیویاں متعلقہ اور بیوہ ہی تھیں آپ نے یہ سنت چھوڑی ہے شیخ محمد بن صالح العصیمین ؒ فرمایا کرتے تھے تمہیں اس بات کو بھی سمجھنا چاہئے کہ محمد سے بڑھ کر کو تو کوئی انسان نہیں ہے اس نے تو اس کو عیب نہیں سمجھا کہ کوئی متعلقہ تھی کوئی بیوہ تھی بلکہ آپ نے تو بخاری و مسلم کی روایت ہے بیوہ اور مسکین کے لئے کوشش کرنا کوشش خرچ کرنا تو بہت بڑی بات ہے ذمہ دار بن جاتا تو اس سے بڑی بات ہے کوشش کرنے کا اجر اتنا ہے آپ نے میدان جہاد میں اپنی زندگی گزاری اور ساری زندگی تہجد پڑھی ہے کوئی ناغہ نہیں کیا۔ ساری زندگی نفلی روزے رکھے ہیں کوئی ناغہ نہیں کیا رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی مجلس سے اُٹھتے تو یہ دعا پڑھتے کہ جو بھی باتیں ہوچکی مجلس میں اللہ اسے معاف کردیتے ہیں وہ دعا یہ

ہے سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اشھد ان لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک یہ دعا پڑھ لیں تو اللہ گناہوں کو معاف کرتے ہیں لیکن یاد رہے دوسری شادی کے لئے قدم اسے اٹھانا چاہئے جس کےا ندر تین شرطیں ہیں سب سے پہلی شرط وہ شخص مالی طور پر دو گھروں کو تین اور چار گھروں کو مین ٹین کر سکتا ہو ظلم ہے نا ن و نفقہ میں برابری نہ کرنا یہ عدل نہ ہے قیامت کے دن ایسا کرنے والا آدھا فالج زدہ ہوگا جس کے اندر جسمانی طاقت ہے کہ وہ اتنے گھر بساسکتا ہے وہ قدم اُٹھائے عدل کرسکتا ہے دوسرا نہیں تیسری شرط سنت کو زندہ کرنے کے لئے یہ کام کرے۔ نہ کہ ان لوگوں کی طرح جو لوگوں کی عزتوں سے کھیلنا چاہتے ہیں قوم کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھو ان کی بھی اتنی عزت جو ہماری بیٹیوں کی عزت سنت کے لئے کرو گے اجر بھی ملے گا عمر ؓ کہاکرتے تھے میراکوئی ارادہ نہیں نکاح کا میں صرف اس لئے نکاح کرتا ہو اللہ اولاد دے اور اس وجہ سے محمد مصطفیٰ سارے نبیوں کے سامنے فخر کریں گے کہ میری امت زیادہ ہے حالانکہ میری ضرورت نہیں ہوتی مقصود اللہ کے رسول کے فخر کو بلند کرنا اور سنت کو زندہ کرنا جس کے اندر یہ تین صلاحیتیں نہیں ہیں اس کے لئے ایک ہی کافی ہے اللہ سب کو گھروں میں خوشیاں دے اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *