یہ لڑکی ہزاروں مردوں سے بہتر ہے ؟

امام علی ؑ سے پوچھا گیا یاعلی وہ کون سی عورت ہے جو ہزاروں مردوں سے بہتر ہے بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو امام علی ؑ نے فرمایا اے شخص میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ ایک باپردہ اور نیک عورت ہزاروں غیر صالح مردوں سے بہتر ہے کیونکہ جو عورت پردہ کرتی ہے اپنے آپ کو نیک بناتی ہے

تو اس کے نیک ہونے کی وجہ سے پورا گھر نیک ہونے لگتا ہے اور یوں اس کا قدم قدم اللہ عبادت میں شامل کرتا ہے اس کے گھر کا کام کرنا اپنے بچوں کے اچھی پرورش کرنا اللہ کے نزدیک تمام نیکیوں سے افضل ہوتا ہے اس طرح وہ نیک عورت ہزاروں غیر صالح مردوں سے افضل ہونے لگتی ہے۔ اور وہ عورت جو بے پردہ ہو بے حیائی پھیلائے اعمال بد کرے تواللہ اس عورت پر لعنت بھیجتا ہے اور چاہے وہ کتنی بھی نیکیاں کرے اللہ قبول نہیں کرتا اور یوں وہ دنیا و آخرت میں رسوا ہو کر اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے ۔پردے کے حوالے سے اکثر لوگ ستر اور حجاب میں کوئی فرق نہیں کرتے حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں ان دونوں کے احکامات الگ الگ ہیں ۔سترجسم کا وہ حصہ ہے جس کا ہر حال میں دوسروں سے چھپا نا فرض ہے ماسوائے زوجین کے یعنی خاوند اور بیوی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے اور عورت کا ستر ہاتھ پاؤں اور چہرے کی ٹکیہ کے علاوہ پورا جسم ہے ۔ ایک دوسری روا یت کے مطابق عورت کا سارا جسم ستر ہے سوائے چہرے اور ہاتھ کے ۔ البتہ عورت کے

لئے عورت کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے ۔ معمول کے حالات میں ایک عورت ستر کا کوئی بھی حصہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں کھول سکتی ۔ ستر کا یہ پردہ ان افراد سے ہے جن کو شریعت نے محرم قرار دیا ہے۔ ان محرم ا فراد کی فہرست سورة النور آیت 31 میں موجود ہے۔ ستر کے تمام احکامات سورة النور میں بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیلات احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مل جاتی ہیں۔ گھر کے اندر عورت کے لئے پردے کی یہی صورت ہے ۔البتہ حجاب عورت کا وہ پردہ ہے جسے گھر سے باہر کسی ضرورت کے لئے نکلتے وقت اختیار کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں شریعت کے وہ احکامات ہیں جو اجنبی مردوں سے عورت کے پردے سے متعلق ہیں ۔ حجاب کے یہ احکامات سورة الا حزاب میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کا مفہوم یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت جلباب یعنی بڑی چادر ( یا برقع ) اوڑھے گی تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے اور چہرے پر بھی نقاب ڈ الے گی تاکہ سوائے آنکھ کے چہرہ بھی چھپ جائے ۔ گویا حجاب یہ ہے کہ عورت سوائے آنکھ کے باقی پورا جسم چھپائے گی۔قرآن پاک

میں ارشاد ہے :اے ایمان والو دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اپنی پہچان نہ کرالو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج دو یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے شاید کہ تم یاد رکھو ۔اس آ یت میں ہدا یت کی گئی ہے کہ اچانک اور بلا اطلاع کسی کے گھر میں داخل نہ ہو جایا کرو۔ ا سلام سے پہلے عرب میں رواج تھا کہ لوگ بے تکلف دوسروں کے گھر میں داخل ہو جاتے اور بسا اوقات اہلِ خانہ اور خواتین کو ایسی حالت میں دیکھ لیتے جس میں دیکھنا خلافِ تہذیب ہے۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ لوگوں کے گھروں میں نہ داخل ہو جب تک یہ معلوم نہ کر لو کہ تمہارا آنا صاحبِ خانہ کے لئے ناگوار تو نہیں ہے۔ داخل ہونے سے پہلے سلام کرکے اجازت لے لیا کرو۔ اجازت لینے کے لئے مسنون طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ مناسب وقفوں سے با آوازِ بلند سلام کیا جائے یا دستک دی جائے۔ اگر جواب نہ ملے یا کہاجائے کہ چلے جاؤ تو دروازے پر جم جانا درست نہیں ہے بلکہ برامانے بغیر لوٹ جانا چاہیئے۔ اسی طرح اس سورة کی آیت 58 میں حکم ہے کہ نمازِ فجر سے قبل نمازِ ظہر کے بعد اور نمازِ عشاء کے بعد یعنی ایسے اوقات میں جب عام طور پر شوہر اور بیوی خلوت میں ہوتے ہیں ملازم اور بچے وغیرہ بلا اجازت کمروں میں داخل نہ ہوا کریں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *