کیا مرد کے سینے کے بال کاٹنا گناہ ہے؟

مرد کے جسم پر بالوں کی موجودگی ثانوی ج ن س ی خصوصیات کا بنیادی حصہ ہے۔ جسم کے دیگر حصوں کی طرح مردوں کے سینے پر بھی بال پائے جاتے ہیں، مگر ان بالوں کے متعلق مختلف لوگ متضاد آراءرکھتے ہیں۔ خواتین ان بالوں کے متعلق کیا سوچتی ہیں، اس کے بارے میں کی گئی ایک تحقیق

میں بہت ہی دلچسپ اور غیر متوقع نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ جریدے مینز ہیلتھ کے مطابق آسٹریلیا میں کی گئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین بالوں سے پاک مردانہ سینے کی بجائے یہ پسند کرتی ہیں کہ کچھ بال ضرور موجود ہوں، لیکن مرد کے سینے پر گھنے بالوں کو دیکھ کر گھبرا جاتی ہیں۔ نارتھمبریا یونیورسٹی کی پروفیسر آف سائیکالوجی تمسین سیکسٹن نے بتایا کہ اس تحقیق میں خواتین کو مردوں کی پانچ مختلف اقسام کی تصاویر دکھائی گئیں۔ ان تصاویر میں مردوں کے سینے پر پر بالوں کی کثافت مختلف تھی۔اور ان کی درجہ بندی بالکل صاف سے لے کر گھنے بالوں والی چھاتی کے درمیان کی گئی تھی۔؎ جن تصاویر میں سینے پر ہلکے بال نظر آرہے تھے انہیں سب سے زیادہ پسند کیا گیا، جبکہ دوسرے نمبر پر بالکل صاف جلد والوں کو

پسند کیا گیا۔ تیسرے نمبر پر درمیانے اور سب سے آخری نمبر پر گھنے بالوں والوں کو پسند کیا گیا۔ پروفیسر تمسین سیکسٹن کا کہنا ہے کہ بہت گھنے بال جارحانہ اور سخت مزاج کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر خطرے کا احساس بھی پیدا ہوسکتا ہے، لہٰذا سینے پر گھنے بالوں کو خواتین نسبتاً کم پسند کرتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مرد ج۔ن۔س مخالف کو بہت دلکش نظر آنا چاہتے ہیں تو وہ چھاتی کے بالوں کی تراش خراش بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر بالوں کو چھوٹا کرنا مقصود ہوتو ان کی لمبائی ایک انچ کے چوتھے حصے کے برابر رکھنی چاہیے، کیونکہ سینے پر اس لمبائی کے بالوں کو سب سے زیادہ پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اسلام اسکے بارے میں کیا کہتا ہے ؟بلاعذر سینہ، ہاتھ پاوٴں کے بال صاف کرنا اچھا نہیں، فقہاء نے سینہ اور پشت کا بال مونڈنے کو خلاف ادب لکھاہے، ہندیہ میں ہے: وفي حلق شعر الصدر والظھر ترک الأدب۔ اس لیے بلاعذر غیر ضروری بالوں کو صاف نہیں کرنا چاہیے۔مرد کے لیے سینے اور ہاتھ پاؤں کے بال کاٹنے کی گنجائش ہے، لیکن خلافِ ادب ہے۔”وفي حلق شعر الصدر والظهر ترك الأدب، كذا في القنية”. (الفتاوى الهندية ،5/ 358) فقط واللہ اعلم

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *