کن گھروں سے برکت و رزق اٹھا لیا جاتا ہے

اپنے اس معاشرے میں ہمیں بہت سے لوگ ایسے دکھائی دیتے ہیں جو تنگ دستی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور وہ اپنی تنگ دستی کے لیے مختلف راستے بھی اختیار کرتے ہیں۔ وہ کبھی کسی سے تاویز مانگتے ہیں اور کبھی کسی عالم کے پاس جاتے ہیں۔ مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے۔ ان

کی اپنی غلطیاں ہی ہوتی ہیں ، کو تاہیاں ہوتی ہیں جو ان کا رزق کم کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ اور وہ ان مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ تو آج ہم آپ کو ایسی چیزوں کے بارے میں بتانے والے ہیں کہ وہ کو نسی عام غلطیاں ہیں جو ہمارے رزق میں مشکلات پیدا کر دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارا رزق تنگ کر دیتی ہیں۔ آپ کو حدیث ِ مبارکہ کی روشنی میں بتائیں گے کہ کس وجہ سے اللہ تعالیٰ انسان کا رزق تنگ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد کسی قسم کے ٹوٹکے ، کسی قسم کے تاویز نہیں لینے پڑ یں گے۔ ہاں وظائف ضرور کرنے ہو ں گے۔ جو آپ کے لیے آ سانی پیدا کر یں گے۔ جتنے چاہیں کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا نام ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہیں تو بے شمار قسم کی نعمتیں اللہ پاک آپ کو عطا فر ما دیتے ہیں۔ سب سے پہلا عمل جو ہے و ہ یہ ہے کہ جوتے پہن کر ، یا کھڑے ہو کر یا ننگے سر کھا نا کھنا رزق میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ بہت سے لوگ جوتے پہن کر کھا نا کھا رہے ہوتے

ہیں۔ یا جلدی جلدی میں کھڑ ے ہو کر کھا نا کھا رہے ہو تے ہیں ۔ ہم بہت سی ایسی خواتین کو بھی دیکھتے ہیں جو ننگے سر بھی کھا نا کھا رہی ہو تی ہیں۔ مثلاً ہمارے گھروں کی عورتوں۔ ہمارے گھروں کی عورتیں بھی ننگے سر کھا نا کھا بھی رہی ہو تی ہیں اور کھا نا دے بھی رہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے گھروں کا رزق تنگ کر دیا جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بیت الخلاء میں ننگے سر جا نا بھی ہمارے رزق میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب وہ بیٹ الخلاء جاتی ہیں تو ان کا سر ننگا ہوتا ہے ۔ یہی ننگا سر ان کے رزق میں تنگی کا باعث بنتا ہے۔ اس بات سے خواتین کو اجتناب کر نا چاہیے۔ کیونکہ اس سے رزق میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے گھروں میں اللہ کی طرف سے۔ ایک زمانہ تھا جب مہمانوں کو رحمت سمجھا جاتا تھا ۔ مگر آ ج کل کے دور میں مہمانوں کو ذحمت سمجھا جاتا ہے۔ یہ عادت ، یہ سوچ ، یہ خصلت بھی گھروں میں ، معاشرے میں رزق کی تنگی کا باعث بن رہی ہے بلکہ بن چکی ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ مہمان کو رحمت سمجھیں کیونکہ مہمان اللہ پاک کی طر ف سے رحمت لے کر آ تا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *