بڑی عید سے پہلے م و ت کا فرشتہ

عید الاضحیٰ والے دن قربانی کرنا ایک عظیم عمل ہے۔ اور اس دن ا س عمل سے زیادہ فضیلت اور کسی عمل کی نہیں ۔ یا در ہے کہ مسلمان یہ قربانی حضرت اسماعیل ؑ کی یاد میں اور حضرت ابراہیم ؑ کی یا د میں کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیمؑ کا اپنے بیٹے کی قربانی کرنا اللہ کی ذات کو ایسا پسند آیا کہ

اللہ تعالیٰ نے تاقیامت اس سنت کو زندہ فرمادیا۔ اور آج بھی مسلمان اسی سنت ابراہیمی کو ہر سال دس ذی الحج پور افرماتے ہیں ۔ آج آپ کو حضر ت علی کےقول کے مطابق یہ بتائیں گے کہ م و ت کا فرشتہ قربانی کرنےوالوں کے لیے اللہ کی طرف سے کیا خوشخبریاں لے کر اترتے ہیں۔اور اس کے ساتھ آپ کو قربانی پر ملنے اجروثواب کے بارے میں بھی بتائیں گے ۔ سب سے پہلے آپ کو قربانی کی اہمیت اور اس کی فضیلت کے بارے میں بتاتے ہیں قربانی کے بارے میں حدیث قدسی ہے کہ ہم نے قربانی کو اپنے دین کی یادگار بنایا ہے حدیث شریف میں موجو د ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا : قربانیاں کیا ہیں؟ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی یا د گار ہیں۔ اور دین اسلام کو ملت ابراہیم ؑ سے کافی امور میں مماثلت ہے اس لیے قربانی کی نسبت حضرت ابراہیم ؑ کی طرف کی گئی ہے۔ نیز دوسری وجہ مفسرین یہ بھی لکھی ہے کہ

قربانی کےعمل میں حضرت اسماعیل ؑ کے واقع کوایسا دخل ہے اس لیے نسبت ان کی طرف کی گئی ہے۔ قربانی کی فضیلت اس سے بڑھ کر اورکیا ہوسکتی ہے کہ کوئی نبی ؑ اور کوئی امت اس مبارک عمل سے مستشنیٰ نہیں رہے ۔ خودحضوراکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال گزارے اور ہر سال قربانی فرماتے رہے۔ ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے ۔ اور حجتہ الوداع کے موقع پر سواونٹ قربان فرمائے۔ جن میں تریسٹھ اونٹ خود اپنے دست مبارک سے راہ خدا میں ذبح فرمائے ۔ حضور اکرم ﷺ نے امت کو تر غیب دینے کےلیے اسی مبارک عمل کے فضائل بیان فرمائے اور دونوں جہانوں میں رب العالمین کی رضا کا ذریعہ قرار دیا۔عید الاضحیٰ کے دن ابن آدم ! کا سب سے پیار ا عمل اللہ تعالیٰ کےنزدیک قربانی ہے۔ اب آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وہ حکایت بتاتے ہیں جس کی ہم بات کررہے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص

پوچھنے لگا اے امیر المومنین! عید الاضحیٰ والے دن ایک انسان کے لیے سب سے بڑا انعام کیا ہے؟ اور وہ راز کیا ہے؟ جس سے عام انسان واقف نہیں ہے۔ تو اس شخص کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے شخص ! یاد رکھنا جب عید قربان کا دن آتا ہے ۔ حضرت عزرائیل ؑ اللہ کے حکم سے زمین پر پھرتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے جو بھی انسان اس دن حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کرے اور اس کے گھر جا کر اس کو تین خوشخبریاں سناؤ۔ پہلی خوشخبری یہ ہے کہ اس کی قربانی کے سبب جو اللہ کی رضاکے سبب کی ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ آنے والے سال میں اس کی مال دولت میں برکت عطاکرے گا۔ دوسری خوشخبری یہ ہے کہ اس سال میں اللہ تعالیٰ نے اس کے مقدر سے بیماریوں اور پریشانیوں کو دور کردیا ہے ۔ اور تیسری خوشخبری یہ ہے کہ قربانی کرنےوالے اور اس کے تمام گھر والوں کی دعاؤں کو قبول کیاگیا ہے۔ یاد رکھنا! کہ اللہ کے نزدیک قربانی کرنا ایک ایسا عظیم ثواب ہے جس کا اندازہ کوئی انسان نہیں لگا سکتا۔ کیونکہ فرشتے ایسے انسان پر فخر کرتے ہیں۔ جو اللہ کی رضا کےلیے اپنے مال کو اللہ پر قربان کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *