لنگڑے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟

ایک سوال ہے کہ لنگڑے جانور کی قربانی جائز ہے؟ اس کا جواب کچھ یوں ہے ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ۔ یعنی وہ زمین پر رکھ کر اس پر وزن دے کر چل نہ سکتا ہو۔ تو ایسے جانور کی قربانی نہیں ہوگی۔ ہاں اگرایسا لنگڑا پن تو ہے لنگڑہا کے چل رہا ہے۔ لیکن جس پاؤں سے لنگڑا ہے ۔

اس کو زمین پر وزن دے کر وہ چل پارہا ہے۔ لیکن تھوڑا سا لنگڑا پن نظرآرہا ہےتواس کی قربانی ہوجائےگی۔ بہتر یہی ہے کہ جانور ایسا ہو معمولی عیب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کان میں سوراخ بھی ہو۔ تو اس کی قربانی نہ کی جائے ۔ اگرچہ اس کی قربانی ہوجاتی ہےبہتریہ ہے کہ اللہ کی راہ میں ہم جو جانور ذبح کررہے ہیں۔ وہ بالکل بے عیب ہونا چاہیے۔ بھیڑ، بکرا، دُنبہ، ایک ہی شخص کی طرف سے قربان کیا جاسکتا ہے۔ گائے، بیل، بھینس، اُونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ایک کافی ہے، بشرطیکہ سب کی نیت ثواب کی ہو، کسی کی نیت محض گوشت کھانے کی نہ ہو۔ بکرا، بکری ایک سال کا پورا ہونا ضروری ہے۔ بھیڑ اور دُنبہ اگر اتنا فربہ اور تیار ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو وہ بھی جائز ہے۔ گائے، بیل، بھینس دو سال کی۔ اُونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے۔ ان عمروں سے کم کے جانور قربانی کے لئے کافی نہیں، اگر جانوروں کا فروخت کرنے والا پوری عمر بتاتا ہے اور ظاہری حالات سے اس کے بیان کی تکذیب نہیں ہوتی تو اس پر اعتماد کرنا جائز ہے۔ جس جانور کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہوں یا بیچ

میں سے ٹوٹ گئے ہوں اس کی قربانی دُرست ہے۔ ہاں! سینگ جڑ سے اُکھڑ گیا ہو جس کا اثر دماغ پر ہونا لازم ہے تو اس کی قربانی دُرست نہیں خصی (بدھیا) بکرے کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے ۔اندھے، کانے اور لنگڑے جانور کی قربانی دُرست نہیں، اسی طرح ایسا مریض اور لاغر جانور جو قربانی کی جگہ تک اپنے پیروں پر نہ جاسکے اس کی قربانی بھی جائز نہیں۔ جس جانور کا تہائی سے زیادہ کان یا دُم کٹی ہوئی ہو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر نہ ہوں اس کی قربانی جائز نہیں ۔ اسی طرح جس جانور کے کان پیدائشی طور پر بالکل نہ ہوں، اس کی قربانی دُرست نہیں۔ اگر جانور صحیح سالم خریدا تھا پھر اس میں کوئی عیب مانعِ قربانی پیدا ہوگیا تو اگر خریدنے والا غنی صاحبِ نصاب نہیں ہے تو اس کے لئے اسی عیب دار جانور کی قربانی جائز ہے، اور اگر یہ شخص غنی صاحبِ نصاب ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس جانور کے بدلے دُوسرے جانور کی قربانی کرے۔قربانی کا بکرا ایک سال کا ہونا ضروری ہے، دو دانت ہونا علامت ہے۔ گابھن گائے وغیرہ کی قربانی جائز ہے، دوبارہ قربانی کرنے کی ضرورت نہیں، بچہ اگر زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کرلیا جائے، اور اگر مردہ نکلے تو اس کا کھانا دُرست نہیں، اس کو پھینک دیا جائے۔ بہرحال حاملہ جانور کی قربانی میں کوئی کراہت نہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *