ایک انسان پر مصیبتیں کب اور کیوں نازل ہوتی ہیں؟؟

شیخ عبد القادر غوثؒ فرماتے ہیں۔ جو دل نہیں مانتا وہ پنجرے کی طرح ہے ۔ جس کے اندر کوئی پرند ہ نہیں۔ جب تک کہ آپ کی زبان آپ کے دل کی بات کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ آپ حق حقان کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ اے میرے رب! ذرا بھی ہچکچاہٹ کے بغیر ہمارے دل کے گھر میں داخل

ہوجاؤ کیونکہ اس میں آپ سے جدائی کے درد کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جب آپ نے کوئی گن اہ کیاہے توآپ کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ آپ کو گنا ہ کی گندگی کو دھو ڈالنے کےلیے ت وبہ کا پانی استعمال کرنا چاہیے جو آپ پر مہک پڑا ہے۔ ان لوگوں کا سورج غروب ہو اجو ہم سے پہلے یعنی اسلام سے پہلے تھے۔ ہمارا سورج ہمیشہ کےلیے آسمان کی اونچی جگہوں پررہے گا اور یہ کبھی غروب نہیں ہوگا۔آپ کی پوری خواہش اور کوشش سادہ چیزوں جیسے کھانے ، پینے ، لباس اور شادی کےلیے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقصد نہیں ہیں۔ بلکہ صرف اسباب ہیں جن کے ذریعہ مقصد تک پہنچنا ہے۔ حلال کھانا کھانا ایک روشن روشنی ہے۔ غیرقانونی کھانا کھانا دم گھٹنے والی تاریکی ہے۔ غیرہ قانونی کھانا کھانال کو

مار دیتا ہے۔ جب کہ حلال اس دل کو زندگی بخشتا ہے۔ جب تمہارا نفس اللہ کا حکم نہیں مانتا توتم اس کا کہنا کیوں مانتے ہو؟ اگر تیرے بدن کا گ وشت قینچیوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کاٹا جائے تب بھی حرف شکایت زبان پر نہ لا، شکوہ وشکایت سے اپنے آپ کو بچا اور محفوظ رکھ۔ اللہ سے ڈر، اللہ سے ڈر، پھر اللہ سے ڈر۔ بچ، شکایت سے بچ لوگوں پر طرح طرح کی جومصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ وہ اپنے رب سے شکایت کی وجہ سے آتی ہیں۔ اچھے لوگ بھینس کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سکھی گھاس کھا کر بھی میٹھا دودھ دیتی ہے۔ اور برے لوگ سانپ کی طرح ہوتے ہیں۔ جو میٹھا دودھ پی کر بھی ڈس لیتے ہیں۔ اس دنیا کے سمندر میں رہتےہوئے آپ کو چوکنا رہنا چاہیے۔ آپ کو بے حدحساس ہونا چا ہیے کیونکہ بہت سے لوگ اس سمندر میں ڈوب کر کھو چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *