وبا کی وجہ سے مدینہ میں جمعہ کے روز ایک بزرگ وفات پا گئے

پیارے دوستو! جنت البقیع وہ قبرستان ہے جہاں پر پیارے آقا ﷺ کی صحبزادیوں کے علاوہ بہت سے جلیل القدر صحابہ اور صحبایات کی قبر یں مو جود ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان ہی تمنا کر تا ہے کہ اس کو پیارے نبی ﷺ کے شہر میں موت آ ئے تا کہ اس کو بھی جنت البقیع میں جگہ مل سکے۔

تو آج ہم جنت البقیع کے متعلق ہی آپ کو بتانے جارہے ہیں کہ جنت البقیع کب سے ہے اور اس میں توسیع کن ادوار میں ہوئی اور کیسے ہوئی اور ساتھ میں ہم آپ کو چند باتیں بھی بتائیں گے کہ لاشوں کو کس انداز میں وہاں لے جا یا جاتا ہے۔ اس بارے میں مکمل تفصیل سے جاننے کے لیے ہماری باتیں بغور سنیے ۔ بقیع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے کثرت سے پا ئے جاتے ہوں ۔ جو کہ بقیع قبرستان کی جگہ میں پہلے کانٹے اور او سیج یعنی غرقت کے پیڑ کثرت کے ساتھ تھے۔ اس لیے اس قبرستان کا نام بھی بقیع پڑ گیا۔ دوستو اگر اس کے محل وقوع کی بات کی جائے تو اس کا محل وقوع یہ ہے کہ یہ قبرستان مدینہ منورہ کی آ بادی سے باہر مسجد ِ نبوی شریف مشرقی سمت میں واقع ہے ۔ اس کے اردگر د مکا نات اور باغات تھے اور تیسری صدی میں جو مدینہ منورہ کی دیوار تعمیر ہوئی۔ اس سے یہ ملا ہوا تھا۔ اس فصیل کی تجدیدات متعد بار ہوئی ہے جن میں آخری تجدید

عثمانیہ دور میں ہوئی۔ پھر اس ملک میں امن قائم ہو جانے کے بعد اس فصیلی دیوار کو ختم کر دیا گیا۔ پھر مسجد ِ نبوی شریف کی آخری تو سیع میں اس قبرستان اور مسجدِ نبوی شریف کے درمیان جو مکا نات تھے۔ ان سب کو ختم کر دیا گیا۔ ان دونوں کے درمیان جو محلہ آ باد تھا۔ وہ اغوات کے نام سے مشہور تھا۔ مسجدِ نبوی شریف کے مشرقی سمت میں اب یہ بقیع قبرستان مسجدِ نبوی شریف کے خارجی صحن سے مل چکا ہے۔ یاد رہے کہ حضرت محمد ﷺ اور حضرات مہا جرین رضوان علی اجمعین نے جب مدینہ منورہ کو ہجرت کر کے اپنا مسکن وطن بنا یا تو شہرِ مبارک میں مزید تعمیر اور مزید ترقی ہونے لگی۔ اس وقت رسو ل اللہ ﷺ نے ارادہ فر ما یا کہ کوئی منا سب جگہ مسلمانوں کی اموات کی تدفین کے لیے متعین ہو جائے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر آپ ﷺ اس بقیع کی جگہ تشریف لائے اور ارشاد فر ما یا : مجھے اس جگہ یعنی بقیع کا حکم قبرستان کے لیے دیا گیا ہے۔ دوستوں اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس بقیع کی جگہ مسلمانوں کا قبرستان بنانے کا حکم فر ما یا تھا اور یہیں سے جگہ بقیع قبرستان کی فضیلت کی ابتداء ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *