غوث پاک کا رجب کا مرجب عمل

رجب المرجب کی 27ویں شب کو ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آسمانوں کی سیر کو تشریف لے گئے اور اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا بھی سر کی آنکھوں سے دیدار کیا۔ اس شب کو شب معراج کہتے ہیں اور یہ انتہائی مقدس رات ہے۔ رجب توبہ کا مہینہ ہے، شعبان محبت کا اور رمضان تقرب

کا مہینہ ہے۔حضور اکرم کا ارشاد ہے: پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جن میں اللہ اپنے بندے کی دعا کو رد نہیں کرتا، ماہِ رجب کی پہلی رات، ماہِ شعبان کے وسط کی رات، جمعہ کی رات، عیدالفطر کی رات اور قربانی کی رات ماہ رجب بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ رجب لفظ ترجیب سے نکلا ہے جس کے معنی تعظیم کے ہیں۔ اس کے دیگر معانی بھی ملاحظہ فرمائیں الاصب سب سے تیز بہاﺅ: اس ماہ میں توبہ بڑی جلد قبول ہوتی ہے اور عصیاں کے صحرا دریائے رحمت و مغفرت کے تیز بہاﺅ سے سیراب ہوجاتے ہیں۔ عبادت گزار انوار قبولیت سے فیض پاتے ہیں۔الاصم سب سے زیادہ بہرہ : زمانہ قبل اسلام میں اس ماہ میں جنگ و جدل کی آواز قطعاً سنائی نہیں دیتی تھی۔ جنگ اس ماہ میں حرام ہے۔۔ رجب جنت کی ایک نہر کا بھی نام ہے جو اس ماہ کے روزے داروں کو نصیب ہوگی۔ مطہر پاک کرنے والا: رجب کو پاک کرنے والا اس لئے کہتے ہیں کہ یہ روزے داروں کے گناہوں اور تمام برائیوں کو پاک و صاف کردیتا ہے۔ اس ماہ میں دعائیں خوب قبول ہوتی ہیں۔ مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے‘ اسی دن سے جب سے

آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ذی القعد ذی الحجہ،محرم اور رجب کو محترم قرار دیا۔ ان حرمت والے مہینوں میں نافرمانی بہت ہی قبیح ہے۔ جس طرح مقدس مقامات اور مبارک اوقات میں نیکی کا ثواب زیادہ ملتا ہے اسی طرح ان مقامات اور اوقات میں نافرمانی کی سزا زیادہ ہوتی ہے۔ شب معراج کا واقعہ:ماہ رجب کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس میں پہلی بار حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر نبی اکرم پر نازل ہوئے تھے۔ اسی ماہ تاریخ اسلام میں شب معراج کا واقعہ پیش آیا جو بہت اہمیت اور عظمت کا حامل ہے۔ یہ واقعہ 27 رجب کو پیش آیا۔ اس ماہ تکمیل عبودیت ہوئی تھی۔ یہ معجزہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کسی اور نبی کو نہیں ملا۔ امام غزالی مکاشفة القلوب میں رقمطراز ہیں: حضور اکرم نے فرمایا: رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا: جس نے ستائیس رجب کو روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا۔ حضور

اکرم نے فرمایا: یاد رکھو رجب اللہ کا مہینہ ہے۔ جس نے رجب میں ایک دن روزہ رکھا، ایمان کے ساتھ اور محاسبہ کرتے ہوئے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضوانِ اکبر یعنی سب سے بڑی رضا مندی لازم ہوگئی نوسو برس عبادت کا ثواب:رجب کے پہلے جمعہ سے جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا: جس نے ماہ حرام میں تین روزے رکھے، اس کے لئے نو سو برس کی عبادت کا ثواب لکھ دیا گیا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ سے نہ سنا ہو تو میرے کان بہرے ہوجائیں۔امام دیلمی سے روایت ہے کہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا: میں نے جناب رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ چار راتوں میں بھلائی کی مہر لگاتا ہے۔ عید قربان کی رات کو ، عیدالفطر کی رات کو، نصف شعبان کو اور رجب کی پہلی رات کو۔دعا کی قبولیت: امام دیلمی نے حضرت ابو امامہؓ سے روایت نقل کی کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا: پانچ راتیں ایسی ہیں کہ ان میں کوئی دعا رَد نہیں ہوتی: رجب کی پہلی رات۔ نصف شعبان کی رات یعنی چودہ اور پندرہ کی درمیانی رات جمعرات۔ عیدوں کی رات۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اپنی تصنیف غنیة الطالبین میں فرماتے ہیں کہ ایک بار رجب کا ہلال دیکھ کر حضرت عثمانؓ نے جمعہ کے دن منبر پر چڑھ کر فرمایا: کان کھول کر سن لو یہ اللہ کا مہینہ ہے اور زکوٰة ادا کرنے کا مہینہ ہے۔ اگر کسی پر قرض ہو تو اپنا قرض ادا کردے اور جو کچھ مال باقی ہے اس کی زکوٰة ادا کردے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم رجب کی فیوض وبرکات سے فائدہ اٹھائیں۔ آمین!

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *