سورت التوبہ کی آخری 2آیات

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشادفرمایا: اے ایمان والو! قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ اور خوب سمجھ کر پڑھو۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کہ کوئی ہے قرآن پڑھنے والے ،جسے ہم یا د کرا دیں۔ سمجھا دیں۔ کوئی ہے ۔ توجب قرآن آپ تھوڑ اپڑھیں گے۔ اور اس کا ترجمہ پڑھیں گے۔ پھر اس ترجمہ پر غور کرتا ہے ۔

پھر اپنے اوپر غور کرتا ہے کہ ترجمہ کیا کہہ رہا ہے؟ قرآن کیا کہہ رہا ہے ؟ اور ہم کیا کررہے ہیں؟ اس طرح ہمار ی اصلاح ہوجاتی ہے۔ پھر انسان اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔جب انسان اپنی اصلاح کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔ ا س لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب قرآن پاک کی تلاو ت سنو ۔ تو کان لگا کر سنو ۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ کان لگا کر سننے کا جو مقصد یہ ہے کہ وہ یہ نہیں ہے کہ آپ سن رہے ہیں۔ بلکہ وہ ایسے ہے کہ آپ کے دل میں اتر رہا ہے۔ آپ کو سمجھ آرہی ہے۔ اس طرح قرآن سننا ہوتا ہے کہ آپ کے آنسو بھی جاری ہوں۔ آپ کے دل کو سکون آرہا ہو۔ قرآن سنتے وقت۔ اپنی اصلا ح مانگو۔ ت وبہ کرو۔ معافی مانگو۔ قرآن پاک میں ایک سورت ” سورت التوبہ ” ہے ۔ اور سورت التوبہ کی آخری دو آیات جو برکتیں وفضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ وہ بے شمار ہیں۔ جو ہم چند چیزیں آپ کو بتائیں گے۔ سورت التوبہ کی

آخری دوآیات پڑھنے والوں کو جور وزانہ پڑھے۔ تو اس سے اللہ تعالیٰ راضٰی ہوتا ہے۔ آپ حضور اکرم ﷺ خوش ہوتےہیں۔ روزانہ جو اس کو پڑھتا ہے۔ تو اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ آپ ﷺ خوش ہوتے ہیں۔ ایک وقت وہ آتا ہے۔ جب آپ ﷺ کا دیدار اسے نصیب ہوتا ہے۔ اس کو پڑھنے سے گھر میں بے شمار دولت آتی ہے۔ کہ دولت کے انبار لگ جاتے ہیں۔ کہ آپ یہ سوچیں گے ہم پیسا رکھیں تو رکھیں کہاں؟ ان پیسوں کو کیسے سنبھالاجائے۔ اور جب اللہ تعالیٰ آپ کو دے ۔ پھر آپ اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ تو اللہ تعالیٰ دس گنا، ستر گنا ، سوگنا بڑھا کر آپ کو اور عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس لیے دیتا ہے۔ دولت اس لیے دیتا ہے؟ کہ تم غریبوں میں خرچ کرو۔ لاچارو میں خر چ کرو۔ مسکینوں کو دو۔ یتیموں کو دو۔ تاکہ تمہارے مال میں برکت ہو۔ برکت بہت ضرور ی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ لاکھو ں روپیہ کماتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ برکت نہیں ہے۔ برکت کیسے ہو؟ جب تم یتیموں کا حق کھاؤ گے ۔ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرو گے۔ پھر برکت کہاں سے ہوگی؟ برکت تو تب ہوگی جب تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اور اللہ تعالیٰ دس گنا، سترگنا، سو گنا بڑھا کر دنیا میں دے ۔ اور پھر آخرت میں جو اللہ تعالیٰ دے گا۔ وہ آپ کی سوچ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *