حضرت علی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فر ما تے سنا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں میں مبتلا ہو گی

آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہر شخص نفسہ نفسی کا شکار نظر آ تا ہے اور جتنی فکر ہمیں دنیا سمیٹنے کی ہے اتنا ہی دور ہم دینی تعلیمات سے ہو تے جا رہے ہیں یوں تو ہم اپنے علماء اور مساجد کے اما موں سے ق ی ا م ت کی کچھ بڑی نشانیوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔

لیکن آج ہم آپ کو پندرہ حیران کر دینے والی نشانیاں بتانے جا رہے ہیں جن کو سننے کے بعد آپ کو حضور ﷺ کے بے انتہا علم کہ نہ صرف اندازہ ہو گا بلکہ ان نشانیوں کے متعلق ارشاد فر ما یا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں کا ارتکاب کر ے گی جو آج کے دور میں ہمارے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ہمارے گھروں میں ہو رہی ہیں، انکو سن کر آپ خود کہیں گے کہ یہ سب حر ف بحرف ہمارے گھروں میں آج ہو رہا ہے اور ان براؤں کے متعلق یہاں تک ارشاد فر ما یا کہ اگر یہ برائیاں ہونے لگ جا ئیں تو اللہ تعالیٰ ہواؤں کو پاگل، زمیوں کو بے وفا اور زمینوں کو سرکش بنا دیتے ہیں۔ تو سوچا کیوں نہ آپ سب ناظرین کے سامنے بھی یہ باتیں رکھ دی جا ئیں تا کہ جانے انجانے میں جن چیزوں کا ہم شکار ہو رہے ہیں ان نشانیوں کو جان کر ہم

ان سے خود بھی بچ سکیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچا سکیں۔ ت تو آپ حضرات کے علم میں اضافے کے لیے ایک بات بتاتے چلیں کہ اب تک جتنی نشانیوں کے متعلق حضور نے پیشنگوئی پر فرما ئی وہ آج حرف بحرف پوری ہو ر ہی ہیں ان واقعات اور نشانیوں سے صرف مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہو رہا ہے بلکہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو بھی ان واقعات سے نفع پہنچے گا۔ اور وہ بھی یہ سن کر یقین کر لیں گے داعی اسلام علیہ الصلاۃ والسلام ان سب انسانوں کے سردار تھے جنہیں اس مالک حقیقی سے خصوصی تعلق تھا تو پیارے دوستوں یہ نشانیاں جن کے متعلق آپ کو بتانے جا رہے ہیں یہ حضور ﷺ کے بے انتہاء سمد ر علم کا ایک قطرہ علمک مالم رکن تعلم “یعنی خدائی علم کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہیں۔ چنانچہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں کا ارتکاب کر ے گی تو امت پر بلا ئیں اور مصیبتیں آن پڑیں گے

کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کیا کیا برائیاں ہیں؟ تو اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فر ما یا۔ نمبر ایک۔ جب مالِ غنیمت کو شخصی دولت بنا لیا جا ئے گا مال غنیمت کو دولت قرار دئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر سلطنت کے اہل طاقت و ثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کر کے بیٹھ جا ئیں اور محتاج و ضرورت مند چھوٹے لوگوں کو اس مال سے محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ نمبر۔ دو جب امانت کو غنیمت سمجھ لیا جا ئے گا امانت کو مال غنیمت شمار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جا ئیں وہ ان اما نتوں میں خیانت کرنے لگیں اور اما نت کے مالِ غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو د ش م ن وں سے حاصل ہو تا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.