حمل سے متعلق 8بڑی غلط فہمیاں

حمل سے متعلق بہت سی باتیں ہیں جو پرانے وقتوں سے چلی آرہی ہیں وہ تو بڑے بوڑھوں کی باتیں تھیں لیکن آج کے دور میں بھی حمل سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں مشہور ہیں ۔ جن میں چند کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے ۔ حمل سے متعلق کسی بھی غلط فہمی پر یقین نہ کریں اور ہر بات کے لیے اپنے ڈاکٹر

سے ضرور مشورہ کریں۔بالوں کا رنگنا:دوران حمل بالوں کو رنگنا خطرناک نہیں اس کے لیے یہ بتایا جاتا ہے کہ ہئیر ڈرائی سے نکلنے والی بو سے متلی کی شکایت ہوسکتی ہے ۔ اس لیے ایسے کمرے میں بیٹھ کر کلر لگایا جائے جہاں ہوا کا اچھی طرح گزر ہو۔ اس کے علاوہ ہئر ڈائزکا بہت معمولی حصہ جلد میں جذب ہوتا ہے جو بچے کے لیے بالکل بھی نقصان دہ نہیں۔ سینے کی جلن: یہ سالوں پرانی غلط فہمی ہے جو اکثر عورتیں آج بھی کرتی ہیں۔ ان کے خیال میں حمل کے دوران ہونے والی سینے میں جلن بچے کے گھنے بالوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بچے کے بالوں کی افزائش کا تعلق ماں باپ کی موروثی خصوصیات سے ہوتا ہے ۔ سینے کی جلن ہارمون پروگسٹرون کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ہارمون تمام مسلز کو سکون بخشتا ہے ۔ بچے کی نشونماء ہونے کی وجہ سے معدے کے ایسڈ ایسوفیگس تک آجاتے ہیں اور سینے کی جلن کا باعث بنتے ہیں ۔ کچھ اقدامات آپ کو اس تکلیف سے بچاسکتے

ہیں۔مصا لحہ دار کھانے : اس بات کا سائنس میں کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ اس بارے میں یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ مصالحے دار کھانے کھانے سے ہاضمے میں خرابی پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے یوٹرس سکڑ جاتا ہے لیکن یہ صرف ایک قیاس ہے ۔ بہت سی خواتین دوران حمل مصالحے دار چیزیں کھاتی ہیں اور ان کے ہاں نارمل ڈلیوری ہوتی ہے۔ ڈبل کھانا: حمل کے دوران غذا میں کیلوریز کا اضافہ کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کی غذا ڈبل کردی جائے۔ اگر آپ متوازن غذا لیتی ہیں تو کیلوریز میں اضافے کی ضرورت نہیں اپنی غذا میں ۳۰۰ کیلوریز روزانہ کا اضافہ کریں ۔ یہ مقدار ۲ گلاس دودھ اور ایک پیالہ جوء کے دلیے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ ہوائی سفر: یہ بات بھی صحیح نہیں، آپ حمل کے پہلے اور دوسرے تین ماہ میں سفر کر سکتی ہیں۔ حمل کے آخری تین ماہ میں بھی سفر کیا جاسکتا ہے لیکن بعض ائر لائنز حاملہ خواتین کو آخری تین ماہ میں سفر

کی اجازت اس لیے نہیں دیتیں کہ کہیں انھیں جہاز میں لیبر پین نہ شرو ع ہوجائے۔کیفین کا استعمال: یہ بات بھی صحیح نہیں آپ دوران حمل بھی چائے ، کافی، چاکلیٹ سے لطف اندوز ہوسکتی ہیں۔ لیکن اس بات کاضرور خیال رکھیں کہ آپ دن میں کیفین کی کتنی مقدار لے رہی ہیں۔ حاملہ خواتین کو دن میں دوسو گرام سے زیادہ کیفین نہ لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس سے زیادہ مقدار حمل کے ضائع ہونے کا باعث بن سکتی ہے ۔ پنیر نہ کھائیں : کچے دودھ سے بنائے گئے پنیر میں (جو نرم ہوتا ہے) ایک بیکٹیریا لسٹیریاہوتا ہے جو فلو کی طرح ایک بیماری پیدا کرتا ہے جو بچے کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے جو حمل گر جانے یا بچے کی موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حمل میں پیسچیورائزڈ ملک سے تیار کردہ پنیر کا استعمال کیا جائے چیڈر، موزریلا اور سوئس چیز صحت کے لیے مضر نہیں اور ماں اور بچے کے لیے محفوظ ہیں۔ دل کی دھڑکن: یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ہونے والے بچے کی دل کی رفتار ایک سو چالیس بار فی منٹ سے زیادہ ہے تو یہ بیٹی ہے اور اگر یہ ۱۴۰ سے کم ہے تو بیٹا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچے کی نارمل ہارٹ بیٹ ایک سو بیس سے ایک سو ساٹھ کے درمیان ہوتی ہے اور کم زیادہ ہوتی رہتی ہے اور اس کا بچے کی جنس سے کوئی تعلق نہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *