حج کی رات اگر یہ عمل کرلیں

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آج حج کا دن ہے ۔ جو کہ بہت ہی زیادہ فضیلت اور اہمیت والا دن ہے۔ آج کے اس دن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایک بہت بڑی عبادت کی ۔ حج نصیب فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام بہن بھائیوں کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔ جو کہ اپنے گھروں سے

نکل کر آ ج بیت اللہ میں ہیں۔ آج حرم شریف میں ہے۔ اللہ پا ک ان کےگھرسے نکلنے سے لر کر گھرمیں واپس آنے تک جتنی بھی ان میں عبادات کی ہیں۔ وہ مزید کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو قبول فرمائے ۔ اور جو بھی دعائیں انہوں نے کیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان دعاؤں کو قبول فرمائے۔ اگر ان سے ان دنوںمیں کسی قسم کی کوئی کوتاہی یا کمی بیشی ہو ئی ہو۔ تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کمی وبیشی کو مع اف فرماکر ان کو پورا کا پورا اجروثواب فرمائے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ آج کا دن بہت ہی زیادہ افضل دن ہے۔ جس طرح آج کا دن افضل دن ہے۔ اسی طرح آج کی رات بہت ہی فضیلت والی رات ہے اور آج کی رات کے بعد جو اگلا دن آرہا ہے ۔ وہ عید الاضحی ٰ کا دن ہے۔ وہ بہت ہی بابرکت اور

فضیلت والا دن ہے۔ عید کا دن جہاں خوشی اور مسرت اور میل میلا پ کا دن ہے۔ وہاں عید کی رات میں کی جانے والی عبادت کی فضیلت عام دنوں میں کی جانے والی عبادت کی فضیلت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ حضرت ابوعمامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو شخص عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کی راتوں میں عبادت کی نیت سے قیام کرتا ہے۔ اس کا دل ان دن بھی فوت نہیں ہوگا۔ جس دن تمام دل فوت ہوجائیں گے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایاکہ: جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے ۔ اس کےلیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ اور وہ راتیں یہ ہیں۔ آٹھ ذی الحج، نو اور دس ذوالحجہ ، عیدالفطر اور پندرہ شعبان کی رات یعنی شب برات ۔ اللہ تعالیٰ

سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ان راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضاوالے اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے جس میں پانچ راتوں کا تذکرہ ہے۔ ا ن میں آج کی رات جو کہ ذی الحجہ کی دسویں رات ہے ا س رات کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ نےفرمایا: جو شخص اس رات میں اللہ کی رضا کےلیے عبادت کرے تو ااس کےلیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ آپ تما م لوگوں سے گزارش ہے کہ آج کی رات خصوصی طور پر اہتمام کریں۔ کہ زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھی جائیں ۔ زیادہ سے زیادہ تلاو ت کلام پاک کی جائے۔ ذکر واذکار کی جائیں۔ اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعاکی جائے۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جائے۔ اللہ تعالیٰ سے رو رو کر، گڑگڑ اکر معافی مانگی جائے۔ اور اگر زیادہ عبادت آپ نہیں بھی کرسکتے۔تو کم ازکم نماز عشا ء باجماعت اد ا کریں۔ اور اس کے بعد دو رکعت نفل صلوۃ التوبہ کی نیت سے ضرور ادا کریں۔ اور نفل ادا کرنے کے بعداللہ پاک سے رو رو کر ، گڑگڑا کر دعامانگیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *